سعودی شاہ کے اقتدار کا پہلا سال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جب سلمان بن عبدالعزیز کو شاہی تخت سونپا گیا تو بہت سے لوگوں نے پیش گوئی کی تھی کہ پالیسی میں تھوڑی بہت تبدیلی کی جائے گی

یمن اور شام میں جنگ، حج کے موقعے پر تباہ کُن بھگدڑ، بڑے پیمانے پر پھانسیاں، مساجد میں بم دھماکے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ، شہزادہ سلمان کی سعودی عرب کے شاہی اقتدار میں بہت کچھ ہوا لیکن خاموشی کی نذر ہو گیا۔

تو اُن کا سفر کیسا گزرا اور ملک کو کس طرح کے مسائل کا سامنا ہے؟

ایک سال قبل جب شاہ عبداللہ کا انتقال ہوا اور اُن کے سوتیلے بھائی سلمان بن عبدالعزیز کو شاہی تخت سونپا گیا، جس پر پیش گوئی کی گئی تھی کہ سعودی پالیسی میں تبدیلی آئے گی۔

سلمان کی عمر 80 سال کے لگ بھگ تھی اور انھوں نے اپنی زندگی کے 48 سال ریاض کے گورنر کے طور پر گزارے۔

معروف قدامت پسند سلمان کے بارے میں خیال تھا کہ وہ ایک طور پر ’دوسروں سے مختلف ہوں گے۔‘ لیکن اب تک یہ قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔

طاقت کی جنگ

پُرانے نظام کے لیے ایک اور دھچکا یہ تھا کہ نئے بادشاہ سلمان نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو وزیرِ دفاع اور نائب ولی عہد کے عہدہ سونپ دیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی عمر اس وقت 29 سال تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پُرانے نظام کے لیے ایک اور دھچکا یہ تھا کہ نئے بادشاہ سلمان نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو وزیرِ دفاع اور نائب ولی عہد کے عہدہ سونپ دیا

تاہم اُن کی قیادت سعودی عرب میں بڑی تعداد میں موجود نوجوان آبادی کو صحیح سمت میں لے آئی (سعودی عرب کے 70 فی صد شہری 30 سال سے کم عمر ہیں)۔ لامحالہ طور پر شہزادہ محمد بن سلمان کی ناتجربہ کاری نے اس اہم عہدے کے لیے اُن کی قابلیت پر سوال اُٹھا دیے ہیں۔

جب میں سنہ 2013 میں جدہ میں اُن سے ملا تو جن چند سعودی شہریوں سے میں نے ان کے متعلق ہر چیز جاننے کے لیے بات کی۔

آج شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ خبروں سے باہر ہوں۔ وہ قیادت کی نئی اور قابلِ فخر (کچھ لوگ اسے ’جارحانہ‘ کہیں گے) خارجہ پالیسی کے سنبھالنے والے اہم شخص بن رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اقتصادی لگام بھی سنبھال رکھی ہے۔

اقتدار میں اُن کی اچانک سے ترقی نے دیوہیکل سعودی شاہی خاندان کی کچھ شاخوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ جس کی وجہ مغربی ذرائع ابلاغ میں ممکنہ شاہی بغاوت کی قیاس آرائیاں ہیں۔

سعودی گھرانے کے متعلق متعدد کتابیں لکھنے والے برطانوی مورخ رابرٹ لیسی کے مطابق ’لوگ اپنے رہنما پر تنقید کر رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے شام اور یمن کے معاملے پر یا تیل کی قیمتوں کے متعلق یا گھریلو بجلی کی قیمت کے مثبت فیصلوں پر نظر ڈالی جائے تو وہ تمام پالیسی کے حوالے سے اختیارات کا استعمال ہے جو مکمل طور پر سلمان نے کیا۔ سلمان ایک بڑی عمر کے آدمی جن کے فیصلوں نے نوجوان آدمی کے جارحانہ پن پر اثر ڈال رہے ہیں۔

یمن کا تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کے اتحادی یمن میں حوثیوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں

سلمان کے دورِ حکومت کے دو ماہ کے دوران سعودی عرب نے یمن میں جاری متنازع جنگ کے حوالے سے دس ملکی اتحاد تشکیل دیا جو آج تک جاری ہے۔

اس کی وجہ سے ملک کی اب تک محفوظ اور غیر محاذ آرائی کی خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے لیکن اس سے جارحانہ پن عروج پر نظر آتا ہے۔

عرب بہار یا عرب انقلاب کی وجہ سے اور عرب دنیا کے گرد ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ کی وجہ سے سعودی عرب خود کو گھِرا ہوا اور پریشان محسوس کر رہا ہے۔

خیال ہے کہ نصف سے زیادہ یمن پر حوثی باغیوں کا تسلط سعودی عرب کی جنوبی سرحدوں پر ایک نئی ریاست بنانے کی ایرانی چال ہے۔ سعودی عرب نے شدید فضائی حملے شروع کر دیے ہیں اس بات کی اُمید کے ساتھ کہ بمباری حوثی باغی مذاکرات کی میز پر واپس لے آئے گی۔

جب میں اپریل میں ریاض میں سعودی عرب کے چیف فوجی ترجمان سے ملا تو وہ کافی پُرامید تھے کہ جلد ہی حوثیوں کو شکست ہو جائے گی اور سعودی نواز صدر عبد ربہ منصور ہادی کا اقتدار بحال ہوجائے گا۔ لیکن دس ماہ گزر جانے کے بعد ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکا۔

سعودی اور اُن کے اماراتی اتحادی ایک غیر واضح فتح والی جمود کا شکار جنگ میں پھنس چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں روسی فضائی کارروائیوں سے صدر بشار الاسد کو کافی سہارا مل رہا ہے

اب بھی دارالحکومت صنعا اور زیادہ تر شمالی علاقوں کا انتظام حوثیوں کے پاس ہے جبکہ اماراتیوں کی جانب چلائے جانے والے عدن اور القاعدہ کے جنگجوؤں کو اس غیر یقینی صورت حال کا فائدہ پہنچ رہا ہے اور وہ ملک کے زیادہ تر مشرقی علاقوں پر اپنا تسلط مستحکم بنا رہے ہیں۔

تاہم ایک اندازے کے مطابق تقریباً چھ ہزار افراد اب تک ہلاک کیے جا چکے ہیں جن میں سے تقریباً نصف عام شہری تھے۔ سعودی خزانے کو جنگ کی لاگت لاکھوں ریال تک برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔

وزیرِ دفاع کے مطابق یمن کی جنگ میں حوثیوں کے خلاف کوئی واضح فتح حاصل نہ کرنے کی ذمہ داری شہزادہ سلمان اور اُن کے صاحبزادے پر عائد ہو سکتی ہے۔

شام کے امن مذاکرات

سنہ 2011 میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت کے آغاز کے بعد سعودی عرب نے واضح کر دیا تھا کہ اُس کی جانب سے وہ باغیوں کی حمایت کرتا ہے اور اسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے۔

بشارالاسد اسلام کی شیعہ فرقے کی ایک شاخ علوی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ سعودی عرب کے روایتی حریف ایران کے اتحادی ہیں۔ اس لیے سعودی عرب شام میں کئی باغی دھڑوں کی حمایت پر بےدریغ خرچ کر چکا ہے جس کے کوئی واضح نتائج نہیں نکل سکے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سعودی پیسہ اور اُس کے ہتھیار القاعدہ سمیت کٹر جہادیوں اور حتیٰ کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔ لیکن سعودی اس بات سے انکار کرتے ہیں۔

دسمبر میں انھوں نے ریاض میں شام کے سیاسی حزبِ اختلاف اور باغی دھڑوں کو ایک مشترکہ مذاکراتی سطح پر لانے کے لیے بڑی حد تک کامیاب کانفرنس کی میزبانی کی جس کی وجہ سے آنے والے چند مہینوں میں صدر اسد کی جگہ عبوری انتظامیہ کو جگہ مل سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب میں شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو سزائے موت دیے جانے پر ایران نے شدید غصے کا اظہار کیا

لیکن شام کی جنگ میں روس کی حالیہ مداخلت نے باغیوں کے خلاف طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے۔ اب قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ آیا اسد اور اُن کے روسی اور ایرانی اتحادی اُن کی روانگی کے لیے تیار کیا جائے گا۔

شہزادہ سلمان کی نئی تحکمانہ خارجہ پالیسی کے حصے کے طور پر ریاض نے اعلان کیا ہے کہ اس کی خصوصی افواج کو شامی میدانوں میں بھیجے جانے کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔ اگر وہ یہ کرتے ہیں تو یہ غیرمعمولی پیش رفت ہو گی۔

ایران دشمنی

ایران اور سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں طاقت اور رسوخ قائم کرنے کے لیے ایک سٹریٹیجک محاذ آرائی جاری ہے۔

سخت گیر شیعہ رہنما شیخ نمر النمر کی پھانسی، اور اُنھیں ’بادشاہ کی نافرمانی‘ کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ لوگوں کے ایک ہجوم کی جانب سے تہران میں سعودی سفارت خانے پر توڑ پھوڑ کی گئی۔ زیادہ تر مبصرین کا خیال ہے کہ یہ ایک ایسا عمل تھا جبو ایرانی حکام کی حمایت کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔

رواں ہفتے سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجوبیر نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ایرانی جوہری معاہدے کی وجہ سے تہران مشرقِ وسطیٰ میں موجود اپنی پراکسی ملیشیا فوج کو اپنے نئے غیرمنجمد لاکھوں ڈالر کی زیادہ تر فنڈنگ بند کر دے گی۔

مغربی ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے بہت سی اطلاعات موجود ہیں کہ شہزادہ سلمان ایلزہائمرز کے دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔

بہت سے سعودی سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ قابلِ اعتماد اور تجربہ کار وزیر اس بات کے لیے تیار ہوں گے کہ وہ نوجوان مگر متنازع شہزادہ محمد بن سلمان کو اگلا ولی عہد بنا سکیں؟

اسی بارے میں