یونان کے قریب کشتیاں ڈوبنے سے 42 تارکینِ وطن ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ایجین کے سمندر میں دو مختلف کشتیوں کے ڈوب جانے سے کم از کم 42 تارکین وطن ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایک کشتی یونان کے ایک چھوٹے سے جزیرے کلولمنو کے قریب ڈوب گئی جس میں 11 بچوں سمیت 34 افراد ہلاک ہو گئے۔

اس کے علاوہ فارماکونسی کے جزیرے کے قریب ایک دوسری کشتی کے ڈوبنے سے آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔

گذشتہ سال دس لاکھ تارکین وطن یورپ پہنچے تھے۔ ترکی اور یونان کے درمیان ایجین کے سمندر کو چھوٹی اور مخدوش کشتیوں میں عبور کرنے کی کوشش میں اب تک سات سو افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے جمعہ کو ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤداغلو سے اس بحران پر بات کرنے کے لیے برلن میں ملاقات کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ سال دس لاکھ تارکین وطن یورپ پہنچے تھے

اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے وزرا نے بھی شرکت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایجین سمندر عبور کرنے کی کوشش میں سات سو افراد ڈوب چکے ہیں۔

یونان کے کوسٹ گارڈ کے عملے نے کہا ہے کہ انھوں نے 26 افراد کو بچا لیا ہے جبکہ سمندر سے انھوں نے 34 افراد کی لاشیں بھی نکالی ہیں جن میں 16 خواتین، 11 بچے اور سات مرد شامل تھے۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے اس لکڑی کی کشتی پر کتنے مسافر سوار تھے۔ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ اس کشتی میں سو کے قریب مسافر سوار تھے۔ کس مسافر کے بچ جانے کے امکان کے پیش نظر سمندر میں تلاش کا کام جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی اور یونان کے درمیان ایجین سمندر کو تارکین وطن مخدوش کشتیوں میں سوار ہو کر عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں

فارماکونسی کے جزیرے کے قریب ڈوبنے والی کشتی میں 48 افراد سوار تھے۔ ان میں سے 40 کنارے پر پہنچ گئے جبکہ ایک لڑکی کو کوسٹ گارڈ نے بچایا۔ کوسٹ گارڈز کو چھ بچوں اور ایک خاتون کی لاش بھی ملی ہے۔

اسی بارے میں