امریکہ شدید برفانی طوفان کی زد میں، ہزاروں پروازیں منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابھی تک اس طوفان میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ چھ ریاستوں میں ناگہانی صورت حال کا اعلان کر دیا گیا ہے

امریکہ کے محکمۂ موسمیات کے مطابق ایک شدید برفانی طوفان امریکہ کے مشرقی ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے جس سے کروڑوں افراد کی زندگي بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ہوا دو فیٹ (61 سینٹی میٹر) سے زیادہ موٹی برف اپنے ساتھ لا رہی ہے۔

ہماری نمائندہ لورا بیکر کا واشنگٹن سے کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ شہر روپوش ہو گيا ہے۔ رہائشیوں کو یہ کہا گیا ہے کہ وہ طوفان کے گذر جانے تک کسی محفوظ مقام کو تلاش کر لیں اور وہیں رہیں۔ سڑکیں سنساں ہیں، ریستوراں، بار اور سپرمارکٹ بند ہیں۔

سرکاری ٹرانسپورٹ معطل ہیں اور چھ ہزار سے زیادہ پروازیں معطل ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ لوگ اس برفانی طوفان میں سفرکرنے کی کوشش نہیں کریں نہیں تو کہیں پھنس کر ہلاک ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کی ایک درجن سے زیادہ ریاستوں میں وارننگ جاری کر دی گئی ہے جہاں تقریبا پانچ کروڑ افراد کے متاثر ہونے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

طوفان شمال کی جانب بڑھ رہا ہے اور امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ جب یہ طوفان اتوار کو وہاں سے گزرے گا تو وہ 30 انچ (76 سینٹی میٹر) برف میں ہوگا۔

ابھی تک اس طوفان میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ چھ ریاستوں میں ناگہانی صورتِ حال کا اعلان کر دیا گیا ہے جبکہ ہزاروں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

اس طوفان کا اثر جنوب میں ارکنساس سے شمال مشرق میں میساچوسیٹس تک ہونے کا امکان ظاہر کیا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہزاروں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور واشنگٹن کے ٹرانسپورٹ کے نظام کو اتوار تک کے لیے بند کر دیا گيا ہے

جمعے کو برف پڑنے سے قبل ہی دکانوں پر اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہوگئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ جمعے اور سنیچر کو چھ ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ کی گئیں۔

وفاقی حکومت کا دفتر جمعے کی دوپہر بعد بند کر دیا گیا جبکہ صدر براک اوباما اپنے دفتر میں ہی رہے۔

امریکی کی ریاستوں ٹینیسی، نارتھ کیرولائنا، ورجینیا، میری لینڈ، پینسلوینیا، کولمبیا کے اضلاع اور دوسری ریاستوں کے بعض علاقوں میں ہنگامی صورت حال کا نفاذ کر دیا گيا ہے۔

ملک کا دوسرا مصروف ترین واشنگٹن ٹرانسپورٹ سسٹم اتوار تک بند رہے گا جس کے بعد بہت سے پروگرامز بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

واشنگٹن کے میئر موریئل باؤزر نے کہا کہ یہ بڑا طوفان ہے جس میں جان کے زیاں کا خطرہ ہے۔

واشنگٹن میں جمعے کی دوپہر کے بعد ہونے والی پہلی برف باری کے بعد امریکی محمکمۂ موسمیات نے متنبہ کیا کہ یہ شہر کی تاریخ کا سب سے خطرناک طوفان ثابت ہو سکتا ہے۔

ورجینیا اور میری لینڈ کے شہریوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ یہ سنہ 1922 میں آنے والے طوفان کے ریکارڈ کو توڑ سکتا ہے جب 28 انچ برف پڑی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کئی لوگوں نے شدید برفانی طوفان کی وجہ سے پہلے سے خریداری کر رکھی ہے

واشنگٹن، بالٹی مور، ڈیلاویئر کے کیتھولک شہریوں کو کہا گیا ہے کہ ایسے حالات میں اتوار کی اجتماعی عبادت میں شامل نہ ہو پانے کا جواز ہے۔

نیشنل ویدر سروس نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور بحرِ اوقیانوس کی ساحلی ریاستوں میں ’مفلوج کر دینے کی صلاحیت رکھنے والے‘ برفانی طوفان میں ریکارڈ برف پڑنے کا امکان ہے۔

پیشن گوئی میں کہا گیا ہے کہ اس طوفان کے دوران بعض علاقوں میں چند گھنٹے کے دوران تقریباً دو فٹ تک برف پڑے گی اور اس کا سب سے زیادہ اثر واشنگٹن پر ہوگا۔

نیشنل ویدر سروس نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’زبردست برفباری اور تیز ہوا کے ساتھ اڑنے والی برف سے خطرناک صورت حال پیدا ہونے کا امکان ہے جو زندگی اور جائیداد کے لیے خطرہ ثابت سکتی ہے۔‘

اس دوران واشنگٹن کے میئر نے شہر میں 15 دنوں کے لیے ہنگامی حالات کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ریاست میری لینڈ، نارتھ کیرولائنا، پینسلوینیا اور ورجینیا کے گورنروں نے بھی ہنگامی حالات کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ CBS
Image caption اس برفباری کی سبب صدر اوباما بھی راستے میں پھنس گئے تھےاور واشنگٹن کے ایئر پورٹ سے انہیں وہائٹ ہاؤس پہنچنے میں تقریبا سوا گھنٹہ لگا

بدھ کی رات کو واشنگٹن میں تقریبا ایک انچ کے قریب پہلے ہی برف پڑ چکی ہے جس سے ٹریفک نظام بری طرح متاثر ہوا اور جمعہ اور سنیچر کو تقریبا دو فٹ تک برف گرنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔

بدھ کی رات کو واشنگٹن میں برف سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے پہلے سے تیاری نہیں کی تھی جس کی وجہ سے شہر کے میئر موریئل بوزیر نے عوام سے معافی طلب کی۔

اسی بارے میں