’بدعنوان عناصر کو اے این سی سے نکلا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈینس گولڈ برگ کا شمار نیلسن مینڈیلا کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے

جنوبی افریقہ کے ممتاز سیاسی و سماجی کارکن ڈینس گولڈ برگ نے حکمراں جماعت افریقن نیشنل کانگرس (اے این سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ جماعت سے بدعنوان لیڈروں کو نکلا جائے۔

واضح رہے کہ ڈینس گولڈ برگ پر نیلسن منڈیلا کے ساتھ مقدمہ چلایا گیا تھا اور انھوں نے 20 سال سے زائد عرصہ قید میں گزارا ہے۔

ڈینس گولڈ برگ نے لندن میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کی حکمراں جماعت اے این سی کی قیادت بدعنوان عناثر سے بھری پڑی ہے۔

جنوبی افریقہ میں ڈینس گولڈ برگ کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ انھوں نے ملک کی نسل پرست حکومت کے خلاف نیلسن مینڈیلا کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

ڈینس گولڈ برگ کا شمار نیلسن منڈیلا کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے۔ نسل پرست حکومت کے خلاف تحریک میں شریک بہت سے دیگر سیاسی کارکنوں کی طرح گولڈ برگ بھی اے این سی کی کار کردگی سے کافی مایوس ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما کو اے این سی کی صدارت سے الگ کر دینا چاہیے۔

’حکومت کی ہر سطح پر بدعنوانی ایک مسئلہ ہے، پارٹی عہدیداروں کو جماعت سے بدعنوانی ختم کرنے کے لیے جہدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی سیاسی قیادت اپنی طاقت بڑھانے اور دولت میں اضافہ کرنے کی بجائے عام لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرے، حکمرانوں کی بد عنوانی ہماری آزادی کے لیے خطرہ ہے۔‘

خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں جنوبی افریقہ کی حکومت پر بدعنوانی کے الزامات میں اضافہ ہوا ہے۔ صدر جیکب زوما پر بھی الزام ہے کہ انھوں نے اپنے ذاتی گھر کی تزین و آرائش پر سرکاری پیسہ خرچ کیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں طلبا کی جانب سے نکالی گئی احتجاجی ریلیوں صدر کے استعفے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

اسی بارے میں