اردن کے سرحدی محافظوں کے ہاتھوں ’شامی سمگلرز‘ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ FRAND GARDNER
Image caption اردن کی ریاست نے شام میں خانہ جنگی اور دولتِ اسلامیہ نامی تنظیم کے جہادیوں کی لڑائی کے باعث اس کے ساتھ ملحق سرحد پر نگرانی سخت کر رکھی ہے

اردن کے سرحدی محافظوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے شام کی ملحق سرحد پر کم سے کم 12 افراد کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرتے ہوئے گولی ماری دی ہے۔

فوج کے مطابق یہ افراد مسلح تھے اور ان میں سے بیشتر واپس شام کی حدود میں فراد ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

سرحدی محافظ کے مطابق مارے جانے والے افراد سے منشیات کے کم سے کم بیس لاکھ کیپسول برآمد ہوئے ہیں۔

اردن کی فوج دور دراز صحرائی علاقوں میں لوگوں کو سرحد عبور کرنے سے سے روکتی رہتی ہے لیکن یہ حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے بدترین واقعہ ہے۔

اردن کی فوج نے یہ نہیں بتایا کے فائرنگ کا یہ فائرنگ کس مقام پر پیش آیا۔

اردن کی ریاست نے شام میں خانہ جنگی اور دولتِ اسلامیہ نامی تنظیم کے جہادیوں کی لڑائی کے باعث اس کے ساتھ ملحق سرحد پر نگرانی سخت کر رکھی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے پاش رجسٹرڈ 43 لاکھ 90 ہزار شامی پانہ گزینوں میں سے کم سے کم چھ لاکھ 33 ہزار شامی پناہ گزین اردن میںموجود ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق حال ہی میں اردن کی سرحد پر آنے والے شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں