ضعیف خاتون نے لاکھوں ڈالر بانٹ دیے

Image caption ’بہت جلد ہی میں جس جگہ جانے والی ہوں، وہاں مجھے پیسے کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی،

سربیا کی ساری عمر گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے والی ایک خاتون نے اپنے مرحوم شوہر کی جانب سے ملنے والے دس لاکھ سے زیادہ آسٹریلوی ڈالر لوگوں کو عطیے میں دے دیے ہیں۔

مشرقی سربیا کے دور دراز پہاڑی علاقے میں رہنے والی 86 سالہ مریجا ذلیٹک کو پانچ سال پہلے معلوم ہوا تھا کہ جس شوہر سے ان کی عرصہ پہلے دُوری ہوگئی تھی وہ آسٹریلیا میں چل بسے ہیں۔

مریجا نے اپنی ایک پڑوسن سے کہا کہ وہ ان کے سابقہ شوہر کے بارے میں مزید معلومت اکھٹی کرے۔ جب پڑوسن نے اس معاملے کی جانچ پڑتال کی تو اسے معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص اپنے ترکے میں اتنی زیادہ دولت چھوڑ گیا ہے۔

اس خبر کے بعد مریجا نے ساری رقم اپنی بستی کے لوگوں کے نام کر دی جو اتنے عرصے سے ان کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔

سربیا میں ایک ویب سائٹ ’بی92‘ سے بات کرتے ہوئے مریجا کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنی دولت نہیں چاہیئے۔ میری پاس اتنا کچھ ہے کہ میں دو وقت کی روٹی کھا سکتی ہوں، پانی پی سکتی ہوں اور میرے پاس اتنی لکڑی بھی موجود ہے کہ میں خود کو سردی سے بچا سکتی ہوں۔‘

’بہت جلد ہی میں جس جگہ جانے والی ہوں، وہاں مجھے پیسے کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی، اسی لیے میں نے اپنی دولت لوگوں کو دے دی ہے۔ انہیں اس پیسے کی مجھ سے زیادہ ضرورت ہے۔‘

ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے مریجا نے بتایا کہ وہ اور ان کے شوہر سنہ 1956 میں مغربی آسٹریلیا کے شہر گِلفورڈ میں جا بسے تھے۔

ان دنوں ان کے شوہر ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے اور وہ خود گِلفورڈ میں اپنے گھر کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔

لیکن اٹھارہ ماہ بعد ہی مریجا کو اپنی بیمار والدہ کی دیکھ بھال کرنے سربیا واپس آنا پڑا۔

اپنی والدہ کی وفات کے بعد مریجا کبھی واپس آسٹریلیا نہیں گئیں، تاہم انھوں نے خط و کتابت کے ذریعے اپنے شوہر سے رابطہ رکھے رکھا۔ مریجا کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر مومسیلو کہا کرتے تھے کہ ریٹائر ہونے کے بعد وہ سربیا واپس آ جائیں گے۔

کئی سالوں بعد یہ خبر سربیا پہنچی کہ مومسیلو اب خاصے امیر ہو گئے ہیں اور انھوں نے دو بڑے بڑے مویشیی خانے بھی خرید لیے ہیں۔ مریجا کو ان خبروں پر کبھی یقین نہیں آیا۔

اور پھر سنہ 2011 میں مریجا نے اڑتی اڑتی یہ خبر سنی کہ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے۔

Image caption مریجا آج بھی اپنے کچے مکان میں خوش ہیں

اس پر انھوں نے اپنی پڑوسن سے کہا کہ وہ ان کے شوہر کے بارے میں مزید معلومات اکھٹی کرے۔

سربیا کے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے پڑوسن کا کہنا تھا کہ انھوں نے مومسیلو کی موت کی خبر کی تصدیق کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ انھوں نے سربیا میں آسٹریلیا کے سفارت خانے سے بھی رابطہ کیا اور آسٹریلیا میں سربیا کے سفارت خانے سے بھی، لیکن کہیں سے کوئی خبر نہیں ملی۔

آخر کار آسٹریلیا کے ایک وکیل نے مریجا کو تصدیق کر دی کہ مومسیلو واقعی انتقال کر چکے ہیں۔ اور پھر چار سال کی تگ ودو کے بعد گزشتہ برس انھیں اپنے شوہر کے انتقال کا سرٹیفیکیٹ مل گیا۔

مریجا نے بتایا کہ ان کے سابقہ شوہر کے ایک مویشی خانے کی مالیت 21 لاکھ ڈالر جبکہ دوسرے کی 15 لاکھ ڈالر تھی لیکن وراثتی ٹیکس کٹنے کے بعد ان کے حصے میں 9 لاکھ 40 ہزار آسٹریلوی ڈالر آئے۔

مریجا کی پڑوسن کا کہنا تھا کہ مریجا نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس دولت کا 30 فیصد حصہ انھیں معاوضے کے طور پر دیں گی، لیکن سربیا کے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے پڑوسن نے بتایا کہ بستی کے لوگوں نے انھیں اتنی رقم نہیں دی جتنی کا وعدہ مریجا نے کیا تھا۔

مریجا کہتی ہیں کہ آج بھی ان کے پڑوسی ان کےگھر آتے جاتے ہیں اور انھیں جلانے کے لیے لکڑیاں بھی کاٹ کر دیتے ہیں۔

تاہم مریجا کے بقول ان کے بہترین دوست ان کے کُتے ہیں۔

اسی بارے میں