ملائیشیا: نجیب رزاق بدعنوانی کے الزامات سے بری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ملائیشیا کے پراسیکیوٹر نے ملک کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق کو ان کے خلاف طویل عرصے سے جاری بدعنوانی سکینڈل سے بری کر دیا ہے۔

ملائیشیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر کا کہنا ہے کہ نجیب رزاق کے بینک اکاؤنٹ میں جو 70 کروڑ ڈالر منتقل کیے گئے تھے وہ سعودی عرب کے شاہی خاندان نے ذاتی عطیہ کیے تھے۔

نجیب رزاق کے اکاؤنٹ والی رقم عطیہ ہیں: تحقیقاتی ایجنسیملائیشیا کے نائب وزیر اعظم عہدے سے برطرف

نجیب رزاق کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انھوں نے سنہ 2009 میں ملائیشیا ڈیولپمنٹ فنڈ (ایم بی ڈی) قائم کیا تھا اور یہ رقم اسی فنڈ سے ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی تھی۔

نجیب رزاق ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں لیکن اس سکینڈل کی وجہ سے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

انسدادِ بدعنوانی ایجنسی کے حکام نے اس سے پہلے کہا تھا کہ نجیب رزاق کو یہ رقم ایک غیر ملکی نے تحفے کے طور پر دی تھی۔

ملائیشیا کے اٹارنی جنرل نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ نجیب رزاق کو دی جانے والی رقم ’سعودی عرب کے شاہی خاندان کی جانب سے عطیہ تھی جو سنہ 2013 میں مارچ کے آخر اور اپریل کے شروع میں منتقل کی گئی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ انسدادِ بدعنوانی ایجنسی کے حکام نے عینی شاہدین سے ملاقات کی جنھوں نے عطیہ کرنے والا شخص کو پہچان کر اس کی تصدیق کی۔

ملائیشیا کے اٹارنی جنرل کے مطابق ’میں اس بات سے مطمئین ہوں کہ نجیب رزاق کو ملنے والی رقم عطیہ تھی اور اس میں کوئی بدعنوانی نہیں کی گئی۔‘

وزیر اعظم نجیب رزاق نے سنہ 2009 میں ایک ایم بی ڈی قائم کیا تھا۔

ایم بی ڈی قومی سرمایہ کاری کا فنڈ ہے اور اس کا مقصد ملائیشیا کو ایک زیادہ آمدن والی معیشت میں تبدیل کرنا تھا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فنڈ کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری پر ضرورت سے بہت زیادہ پیسہ خرچ کیا گیا اور مشہور بینک گولڈ مین سیکس کو معاضے کی شکل میں لاکھوں ڈالر دے دیے گئے۔

ون ایم بی ڈی میں مبینہ گڑ بڑ سنہ 2014 میں اس وقت ظاہر ہونا شروع ہوئی جب یہ ادارہ اپنے قرض خواہوں کو بروقت رقم لوٹانے میں ناکام ہونا شروع ہو گیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ یہ فنڈ 11 ارب ڈالر کے قرض میں ڈوب چکا ہے۔

اسی بارے میں