ایرانی صدر کی میزبانی، عریاں مجسموں کو ڈھانپ دیا

Image caption حکام نے عجائب گھر میں نادر مجسموں کو ڈھانپ دیا

ایران کے صدر حسن روحانی کے اٹلی کے دارالحکومت روم کے ایک عجائب گھر میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی وجہ سے وہاں عریاں مجسموں کو ڈھانپ دیا گیا۔

صدر روحانی یورپ کے پانچ روزہ دورے پر ہیں اور جہاں اٹلی میں دونوں ممالک کے درمیان 18.4 ارب ڈالر مالیت کے سمجھوتے ہوئے ہیں۔

روم کے عجائب گھر میں اٹلی کے وزیراعظم ماتیو رینزی اور ایرانی صدر روحانی نے کاروباری سمجھوتوں پر دستخط کیے۔

حکام نے اس موقعے پر عجائب گھر میں موجود عریاں مجسموں کو ڈھانپ دیا تاکہ ایرانی صدر کو کسی قسم کی ناگواری نہ ہو۔

اٹلی نے اس علاوہ ایرانی صدر کے اعزاز میں دیے گئے سرکاری عشائیے میں وائن بھی نہیں رکھی کیونکہ ایران میں شراب نوشی کی سخت ممانعت ہے۔

سمجھتوں کی تقریب میں ایرانی صدر نے کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ ایران خطے کا سب سے محفوظ اور مستحکم ملک ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سرمایہ کاری کے سمجھوتوں کی تقریب عجائب گھر میں منعقد ہوئی

صدر روحانی نے کہا کہ اقتصادی ترقی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کی چابی کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ بے روزگاری کی وجہ سے دہشت گردوں کو جنگجو دستیاب ہوتے ہیں۔

ایرانی صدر نے مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس سے ملاقات کی جس میں پوپ نے ایران پر زور دیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی اور ہتھیاروں کی سمگلنگ کے خلاف مل کر کام کرے۔

ایرانی صدر نے پوپ فرانسس کو ہاتھ سے تیار کردہ قالین تحفے میں دیا۔

ایرانی صدر روحانی نے اٹلی کے بعد بدھ کو فرانس کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ جس میں مزید کاروباری سمجھوتے کیے جائیں گے جس میں ایئر بس کمپنی سے ایک سو سے زیادہ مسافر طیارے خریدنے کے معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

اسی بارے میں