برطانوی عدالت نے ’بیڈ روم ٹیکس‘ کو امتیازی قرار دے دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہاؤسنگ بینیفٹس کی مد میں یہ تبدیلیاں اپریل 2013 میں متعارف کروائی گئی تھیں

برطانیہ میں اپیل عدالت نے اس ’بیڈ روم ٹیکس‘ کو امتیازی قرار دے دیا ہے جس کے تحت کونسل ایسے مکینوں کو ہاؤسنگ کی مد میں کم رقم فراہم کرتی جن کی رہائش گاہ میں ’اضافی‘ کمرہ ہو۔

یہ قانون گھریلو تشدد کا شکار ایک خاتون اور ایک معذور لڑکے کے خاندان نے چیلینج کیا تھا۔

برطانوی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایک اپیل کے دوران ایک مؤکلہ نے جنھیں عدالتی دستاویزات میں ’اے‘ کا نام دیا گیا ہے، کہا ہے کہ اس کا اثر ایسی خواتین پر پڑے گا جنھوں نے اپنی رہائش گاہوں میں زندگی کو خطرات کے پیشِ نظر تبدیلیاں کی ہیں۔

گھریلو تشدد کا شکار رہنے والی اس خاتون نے اپنی رہائش گاہ میں ایک ’پینِک روم‘ بنایا ہوا ہے۔

دوسری اپیل پال اور سوزن ردرفرڈ اور ان کے 15 سالہ پوتے وارن کی جانب سے کی گئی جس میں کہا گیا کہ اس کا اثر ایسے معذور بچوں پر پڑ سکتا ہے جنھیں دن رات نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ اپیلیں سننے والے لارڈ چیف جسٹس لارڈ ٹامس، لارڈ جسٹس ٹام لنسن اور لارڈ جسٹس واس نے ان اپیلوں کو منظور کر لیا۔

ہاؤسنگ بینیفٹس کی مد میں یہ تبدیلیاں اپریل 2013 میں متعارف کروائی گئی تھیں اور اس کے بعد سے دی جانے والی رقم کا تعین خاندانوں کو درکار کمروں کی تعداد کی بنیاد پر کیا جانے لگا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد لوگوں کی چھوٹے مکانات میں منتقل ہونے کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کرنا ہے کیونکہ اس سے ہاؤسنگ بینیفٹ کی مد میں دی جانے والی رقم میں 48 کروڑ پاؤنڈ کی بچت ہو سکتی ہے۔