یونان نے سرحدوں کی حفاظت میں ’لاپرواہی‘ برتی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یونان پہنچنے والے پناہ گزین

یورپی کمیشن نے اپنی ایک مجوزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یونان نے اپنی سرحدوں کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری کو ’بہت بری طرح نظر انداز‘ کیا ہے۔

ترکی کے ساحل پر کم از کم 34 تارکین وطن کی لاشیں برآمد

یہ جائزہ یورپی کمیشن کی جانب سےگذشتہ سال نومبر میں لیاگیا تھا جب ملک میں کئی پناہ گزین آئے تھے۔ رپورٹ میں یونان کی انتظامیہ پر سنگین کمزوریوں کے الزامات عائد کیےگئے ہیں۔

اگر اس مسودہ کو یورپ کے دیگر شینگن کی ریاستیں منظور کرتی ہیں تو یونان کو اپنی سرحدوں کی حفاظت بہتر کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت ملےگی۔

شینگن معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کے شہری بغیر کسی روک ٹوک کے ممبر ممالک کا سفر کرسکتے ہیں۔

گذشتہ سال یونان میں آٹھ لاکھ 50 ہزار سے زائد تار کین وطن اور پناہ گزین پہنچے تھے۔

اس کے علاوہ سال 2016 کی ابتدا میں 44 ہزار لوگ ترکی کے ذریعے لیزبوس، ساموس اور چیوں کے یونانی جزیروں میں بھی آئے ہیں۔

یورپی کمیشن کی مسودہ رپورٹ کے مطابق پناہ گزینوں کی شناختوں کو رجسٹر کروانے میں اور ان کی انگلیوں نے نشان لینے میں لاپرواہی کی گئی تھی۔

اگر یونانی حکومت ان کمزوریوں کو ختم نہیں کر پائے گی تو یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ دیگر شینگن ریاستوں کو یورپ کی اندرونی سرحدوں پر عارضی کنٹرول نافذ کرنے کی اجازت دینے پر غور کرے گا۔

اسی بارے میں