اوریگن: وائلڈ لائف پناہ گاہ پر قابض ملیشیا کے سربراہ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایمون بنڈی کی یہ تصویر رواں ماہ پناہ گاہ پر قبضے کے بعد لی گئی تھی

امریکی پولیس نے کہا ہے کہ انھوں نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک مسلح ملیشیا کے سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

اس فائرنگ میں ایک شخص ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔ یہ مسلح گروپ اوریگن میں ایک وائلڈ لائف پناہ گاہ پر قابض ہے۔

پولیس نے بتایا کے ملیشیا کے سربراہ ایمون بنڈی کے ساتھ پانچ دیگر افراد بھی ٹریفک کی چیکینگ میں پکڑے گئے ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا پولیس کے اس آپریشن میں وائلڈ لائف کی پناہ گاہ سے ان لوگوں کا قبضہ ختم ہوا ہے یا نہیں۔

بنڈی کی سربراہی میں خود ساختہ ملیشیا نے رواں ماہ کے اوائل میں وائلڈ لائف پناہ گاہ پر قبضہ کر لیا تھا۔

امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 40 سالہ بنڈی کو شاہراہ 225 پر ایک ٹریفک سٹاپ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ اس کے 43 سالہ بھائی رائن بنڈی، 44 سالہ برائن کیوالیئر، 59 سالہ شوانا کوکس، اور 32 سالہ رائن ویلن پین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

اوریگن کی پولیس اور ایف بی آئی کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مالہیئر نیشنل وائلڈ لائف ریفیوج پر قابض مسلح گروپ کے کئی افراد کوگرفتار کرنے کے لیے کارروائی کی گئی جس کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کارروائی میں ایک شخص مارا گیا۔ ’ہم لوگ اس کے بارے میں طبی جانچ سے قبل کوئی معلومات فراہم نہیں کریں گے۔‘

اسی بارے میں