’پناہ گزین بچوں کی تعلیم کے لیے مزید کوششیں ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملالہ فنڈ کی جانب سے تیار کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اس علاقے سے قریب چالیس لاکھ بےگھر ہونے والے بچوں، جو پناہ گزين کیمپوں میں رہتے ہیں، میں سے تقریبا نصف کو سکول تک رسائی حاصل نہیں ہے

بچوں کی تعلیم کے لیے مہم چلانے والی نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے شام اور اس کے آس پڑوس کے ممالک میں بےگھر ہونے والے لاکھوں بچوں کی تعلیم کے لیے مزيد کوششیں بڑھانے پر زور دیا ہے۔

ملالہ فنڈ کی جانب سے تیار کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اس خطے میں بے گھر ہونے والے تقریباً 40 لاکھ بچوں میں سے تقریباً نصف کو سکولوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ سب بچے ایک ’ضائع شدہ نسل‘ بن سکتے ہیں۔

ملالہ فنڈ کی یہ رپورٹ جمعے کے روز باقاعدہ طور پر ریلیز کی جائے گی لیکن بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈیوسٹ کو اس سے پہلے ہی اس تک رسائی حاصل ہوئي۔

ملالہ یوسف زئی شام اور مشرقی وسطی کے دیگر جنگ زدہ علاقوں سے بےگھر ہونے والے بچوں کی تعلیم کے لیے مہم چلاتی رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایسے وقت جب بچے اپنے مستقبل کے لیے ڈاکٹر، استاذ اور انجینیئر بننے کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں انہیں تعلیم کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے

ملالہ فنڈ نے اس سلسلے میں جو نئی رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق ایسے بچوں کی تعلیم، اساتذہ کی تقرری یا جگہ کے لیے جتنا پیسہ چاہیے اس کا صرف 37 فیصد ہی دستیاب ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق فوری طور پر اس فرق کو کم کرنے کے لیے ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے۔

ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ ایسے وقت جب بچے اپنے مستقبل کے لیے ڈاکٹر، استاد اور انجینیئر بننے کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں انھیں تعلیم کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت آرہی ہے جب شام کے متعلق لندن میں آئندہ ہفتے ایک عالمی کانفرنس ہونے والی ہے جس میں عطیہ دینے والوں سے ایسے بچوں کی تعلیم کے لیے مزید رقم فراہم کرنے کی بات کہی جائے گي تاکہ اگلے برس سکول کی شروعات سے قبل ہی تمام بچوں کو سکول میں تعلیم دینے کا انتظام ہوسکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بہت سی کم عمر لڑکیوں نے پہلے ہی یا تو مجبورا شادی کر لی ہے یا پھر کھیتوں یا فیکٹریوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں

لیکن بہت سے وہ ممالک جو اس کے لیے فنڈ مہیا کرنے میں آگے تھے وہ اب یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ شام سے ایک بڑی تعداد میں پناہ گزین خود ان کے ملک پہنچ رہے ہیں اس لیے وہ رقم اب وہ خود ان پر اپنے ملک میں خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اردن کے دارالحکومت میں بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بہت سی کم عمر لڑکیوں نے پہلے ہی یا تو مجبورا شادی کر لی ہے یا پھر کھیتوں یا فیکٹریوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے شام کے پڑوسی ممالک پہلے ہی سے ایسے بچوں کی تعلیم پر بہت زیادہ بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں