بائیکاٹ کے باوجود ٹرمپ کی مقبولیت برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مباحثے میں حصہ لینے کے بجائے ڈانڈ ٹرمپ نے ایک جلسہ منعقد کیا

امریکی ریاست آئیووا میں منعقد ہونے والے حتمی رپبلکن مباحثےمیں شرکت نہ کرنے کے باوجود بھی رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند ڈونلڈ ٹرمپ مباحثے کے دوران بڑا موضوع بنے رہے۔

ٹرمپ کا آخری رپبلکن مباحثے کے بائیکاٹ کا اعلان

ان کے حریفوں نے مباحثے میں ٹرمپ کی غیر موجودگی کا مذاق اڑایا اور امیگریشن کے علاوہ دیگر مسائل پر بحث کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مباحثے کے بائیکاٹ کا فیصلہ اس وقت کیا تھا جب فاکس نیوز نے میزبان میگن کیلی کو ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھیں خدشہ تھا کہ اس مباحثے کی میزبان میگن کیلی ان سے منصفانہ سلوک نہ کرتیں۔

ارب پتی ٹرمپ نے مباحثے کے مقام کے قریب ایک جلسہ منعقد کیا جس میں انھوں نے پرانی جنگوں میں زخمی ہونے والے فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

پیر کے روز آئیووا میں ووٹر ہر سیاسی جاعت سے اپنا صدارتی امیدوار چنیں گے۔

آئیووا کے دارالحکومت ڈے موئنز میں ٹرمپ کے سات حریفوں نے سٹیج سے ٹرمپ کی غیر موجودگی پر تبصرے کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھیں خدشہ تھا کہ اس مباحثے کی میزبان فاکس نیوز سے تعلق رکھنے والی میگن کیلی ان سے منصفانہ سلوک نہ کرتیں

ٹیکسس سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹیڈ کروز نے اپنے خطاب میں ان کی غیر موجودگی کا ذکر مذاق سے کرتے ہوئے کہا: ’میں پاگل ہوں اور اس سٹیج پر موجود تمام لوگ بے وقوف، موٹے اور بدشکلے ہیں، اور بین کارسن، آپ ایک بہت برے سرجن ہیں۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے جلسے کے دوران کہا: ’جب آپ کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے تو آپ کو اپنے حقوق کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔‘

فاکس نیوز نے ایک بیان میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بحث میں شرکت کرنے پر ایک شرط رکھی تھی کہ فاکس نیوز ان کے پسندیدہ خیراتی اداروں کو عطیات میں 50 لاکھ ڈالر دے، لیکن فاکس نیوز نے انکار کر دیا۔

گوگل سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اپنے حریفوں کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی سب سے زیادہ سرچ کیے جانے والے رپبلکن امیدوار ہیں۔

کئی مبصرین نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ٹرمپ کے کھردرے رویے کے بغیر مباحثہ پھیکا پڑ گیا، جبکہ دیگر لوگوں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے حاکمانہ مزاج سے دیگر امیدواروں کو اپنی شخصیات دکھانے کے مواقع ملے۔

اسی بارے میں