ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ملک شیک کا ڈر!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے متنازع بیانات پر تنقید کا سامنا ہے

بھارت میں لالو پرساد يادوجي نے برسوں پہلے جب کہا تھا کہ بہار کی سڑکیں ہیما مالنی کے گال کی طرح چکنی ہو جائیں گی تو ہر اخبار نے چٹکی لے لے کر خبر شائع کی تھی۔

تنقید کچھ خاص نہیں ہوئی تھی اور اسے زمین سے جڑے ایک رہنما کا مزاحیہ بیان کہہ کر ٹال دیا گیا تھا۔ لالوجي کی سیاست پر بھی اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

بائیکاٹ کے باوجود ٹرمپ کی مقبولیت برقرار

امریکہ میں جب ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی اکھاڑے میں کودے تو ان کے بہت سے بیانات کو یہاں کی رپبلكن پارٹی نے بھی ابتدا میں کچھ اسی انداز میں ٹال دیا کہ وہ ایک خاص طبقے کے ساتھ بات کرتے ہوئے ان کی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔

اندر سے توقع یہ تھی کہ یہ ارب پتی کچھ دن سیاست سیاست کھیلنے کے بعد بور ہو جائے گا اور اس طرح کے بیان اسے لے ڈوبیں گے۔ لیکن اب رپبلكن پارٹی کی حالت یہ ہے کہ جن بوتل سے باہر نکل گیا ہے اور اسے واپس بند کرنے کا کوئی بھی فارمولا کام نہیں کر رہا ہے۔

اس طرح کے بیانات سے ہنگامہ تو خوب مچتا ہے لیکن ٹرمپ کی درجہ بندی بڑھ جاتی ہے۔ ان کے چاہنے والے کہتے ہیں کہ یہی ایک لیڈر ہے جو بغیر لگی لپٹی کے بولتا ہے۔

ایک بحث کے دوران ٹرمپ سے فوکس ٹی وی، جو رپبلكن پارٹی کا کنگ میکر چینل کہلاتا ہے، کی معروف اینکر میگن کیلی نے پوچھا کہ آپ ہلیری کلنٹن کے خلاف کس طرح ٹک پائیں گے جب خواتين کے لیے آپ نے غیر اخلاتی الفاظ کا استعمال کیا ہے تو پہلے تو وہ کیلی پر لائیو ٹی وی میں ہی برس پڑے اور پھر اگلے دن دوسرے انٹرویو میں کیلی کے بارے میں کہا ’اس عورت کی آنکھوں سے خون نکل رہا تھا نہ جانے کہاں کہاں سے خون نکل رہا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آج بہت سے لوگوں کو فوکس ٹی وی چینل اور میگن کیلی کا ساتھ دینا پڑ رہا ہے

اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ٹرمپ نے آئیووا میں ہونے والے انتخابات سے عین قبل ہونے والے فوکس ٹی وی کی بحث میں شرکت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ اگر میگن کیلی اینکر ہوں گی تو وہ شامل نہیں ہوں گے۔

حد تو یہ ہے کہ انہوں نے کیلی کی پرانی تصاویر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’بمبو‘خواتين کے حق کی بات کرتی ہے اور ایسی تصاویر كھنچواتي ہے، یہ صدارتی امیدوار سے کیا سوال پوچھے گي؟

دی نیویارکر میگزین نے لکھا ہے کہ ٹرمپ کی وجہ سے یہ دن آ گئے ہیں کہ آج بہت سے لوگوں کو فوکس ٹی وی چینل اور میگن کیلی کا ساتھ دینا پڑ رہا ہے۔ میں دفتر کی لفٹ میں تھا تو اندر لگے ٹی وی پر ٹکر چلا کہ ٹرمپ بحث میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔

ساتھ میں کھڑی ایک خاتون نے کہا کہ یہ انسان اس سکول کے ضدی بچے کی طرح برتاؤ کر رہا ہے جو کہتا ہے کہ میں اس فلاں لڑکی سے بات نہیں کروں گا کیونکہ وہ مجھے پسند نہیں کرتی ہے۔

فوکس ٹی وی کے کچھ بزرگوں نے انہیں سمجھا بھی اس طرح سے رہے تھے جیسے کسی ضدی بچے کو سمجھایا جاتا ہے۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک کہا کہ میں جو آپ کو ملک شیک پلاتا رہا ہوں وہ بند کر دوں گا۔

جب یہی ضدی بچہ اوباما کو مسلمان کہتا تھا، ان کی امریکہ میں پیدائش پر شک کرتا تھا تو پارٹی کے رہنما اور اس چینل کے کرتا دھرتا نیم مسکراہٹ کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اب جب یہ بچہ ان سے بھی بڑا ہوتا نظر آ رہا ہے، تو اس کی حرکتوں سے پریشان ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

دیکھا جائے تو ٹرمپ نے وہی باتیں اکّھڑ انداز میں کہی ہیں جو ان کی پارٹی کے لوگ اور فوکس چینل بھی زرا چاشنی لگا کر پیش کرتے رہے ہیں۔

پارٹی کے رہنما کہتے رہے ہیں کہ میکسیکو سے آنے والے لوگوں پر روک لگانی چاہیے، ٹرمپ نے کہا کہ سرحد پر دیوار کھڑی کر دیتے ہیں۔

پارٹی کے لیڈر کہتے رہے ہیں کہ مسلمانوں پر نظر رکھی جانی چاہئے، ٹرمپ صاحب کا سیدھا سا حل ہے مسلمانوں کے امریکہ میں گھسنے پر ہی روک لگا دو۔

ان کے حامی رپبلكن پارٹی کا ایسا چہرہ پیش کر رہے ہیں جو صرف سنہرے بالوں والا ہے، کالج کی ڈگری نہیں لی ہے، ہر دوسرے مذہب، خاص طور سے اسلام کا کٹّر دشمن ہے، باہر سے یہاں آکر آباد لوگوں کے خلاف ہے اور پارٹی کو ڈر ستا رہا کہ یہ چہرہ امریکہ میں صدارتی انتخابات کبھی نہیں جیت سکتا۔

اس ہفتے ٹرمپ کی ریلی میں اڈیل کا ایک نغمہ بجایا جا رہا تھا۔’there's a fire starting in my heart‘اب ہر گزرتے دن کے ساتھ رپبلكن پارٹی کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ٹرمپ کی یہ آگ ملک شیک انڈیلنے سے تو نہیں بجھنے والی۔

اسی بارے میں