ترکی سےیونان جاتے ہوئے39 پناہ گزین ڈوب کر ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنیچر کو پیش آنے والے حادثے کا شکار افراد یونان کے جزیرے لیسبوس جا رہے تھے

ترکی کےساحلی محافظوں کہنا ہے کہ ترکی سے یونان جانے والی ایک کشتی بحیرۂ ایجین میں ڈوب گئی ہے جس میں 39 افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

ساحلی محافظوں کے مطابق ڈوب کر مرنے والوں میں اکثریت بچوں کی ہے۔ساحلی محافظوں نے کم از کم 60 افراد کو ترکی کے سمندری حدود میں زندہ بچا لیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ کشتی کے متعدد حادثوں کے باوجود یورپ میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہزاروں افراد ترکی سے یونان کا خطرناک سمندر سفر کر رہے ہیں۔

تارکینِ وطن کے لیے عالمی تنظیم آئی او ایم نے جمعے کو کہا تھا کہ اس سال کے آغاز سے اب تک کم سے کم 244 پناہ گزین بحیرۂ روم میں ڈوب چکے ہیں جبکہ 55568 ساحل تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

اس وقت یہاں پہنچنے والے افراد کی یومیہ تعداد دو سال قبل جنوری کے پورے ماہ میں آنے والے افراد کے برابر ہے۔

کچھ روز قبل ہی ایسے ہی ایک حادثے میں کم سے کم 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشتی پر سوار افراد میں شام، میانمار اور افغانستان کے باشندے شامل تھے

ترکی کے ساحلی محافظوں کا کہنا ہے کہ سنیچر کو پیش آنے والے حادثے کا شکار افراد یونان کے جزیرے لیسبوس جا رہے تھے۔

لیسبوس پناہ کے متلاشیوں میں کافی مقبول مقام ہے۔ ترکی کے حکام کے مطابق 17 میٹر لمبی یہ کشتی ساحل سے نکلتے ہی ایک چٹان سے ٹکرا گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ ڈوبنے والے کشتی میں مزید لاشیں ہو سکتی ہیں۔ بچائے جانے والے افراد علاج کیا جا رہا ہے جو ہائیپو تھرمیا کا شکار ہو گئے ہیں۔

ایک ترک باشندے کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ انسانی سمگلر ہیں۔

اس کشتی پر سوار افراد میں شام، میانمار اور افغانستان کے باشندے شامل تھے۔

اسی بارے میں