دہشت گردی کا خطرہ، سکولوں میں ’تمباکو نوشی کی اجازت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایک تہائی فرانسیسی نوجوان تمباکو نوشی کرتے ہیں

فرانس میں سکولوں کی ایک یونین کا کہنا ہے کہ طالب علموں کو دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر سکولوں میں تمباکو نوشی کی اجازت دینا شروع کر دی ہے۔

سکول ایڈمنسٹریٹز کی یونین نے اس سے قبل نومبر میں پیرس حملوں کے بعد اس اقدام کا مطالبہ کیا تھا تاہم یہ وزارت صحت کی جانب سے منظور نہ کیا گیا۔

ایس این پی ڈی ای این یونین نے گذشتہ ہفتے ازسرنو مطالبہ کیا تھا لیکن یونین کے ایک اہکار کے مطابق کچھ سکولوں نے اس پر پہلے ہی عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایک تہائی فرانسیسی نوجوان تمباکو نوشی کرتے ہیں۔

ایس این پی ڈی ای این یونین کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل مچل رچرڈ نے فرانس ڈاٹ انفو کو بتایا کہ ’طالب علموں کا گلیوں میں اکٹھا ہونے سے بہت زیادہ خطرہ ہے، جو کہ تمباکو نوشی سے کہیں زیادہ ہے۔‘

مچل رچرڈ کا کہنا ہے کہ یونین تمباکو نوشی سے منسلک خطرات کو چھپانے کی کوشش نہیں کر رہی تاہم ان کا کہنا تھا یہ ’بڑے خطرات سے تحفظ کے تناظر میں یہ ضروری تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ سکولوں نے سرکاری طور پر اجازت کے بغیر ہی اس پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پیرس میں نومبر میں ہونے والے حملوں کے بعد سے ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے

مچل رچرڈ کا کہنا تھا کہ فرانس کی وزارت صحت نے یونین کی جانب سے ابتدائی طور پر سکولوں کے میدان میں تمباکو نوشی کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

انھوں نے کہا کہ وزارت کا کہنا تھا کہ فرانس میں نافذ ہنگامی حالات ’تمباکو نوشی کے بارے میں اصول و ضوابط کو متاثر نہیں کریں گے۔‘

خیال رہے کہ پیرس میں نومبر میں ہونے والے حملوں کے بعد سے ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں