جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو سنگین نتائج کی دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ناقدین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا سیٹلائٹ بھیجنے کے پیچھے بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کا تجربہ کرنے منصوبہ ہے

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ مصنوعی سیارہ بھیجنے کے منصوبے سے باز نہیں آیا تو اسے اس کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔

سیؤل کے مطابق یہ سیٹلائٹ دراصل شمالی کوریا کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کرنے کا صرف ایک بہانہ ہے۔

جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ پیونگ یانگ کا یہ تجربہ بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے بھی شمالی کوریا کے منصوبے کی یہ کہتے ہوئے مذمت کی ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی قابل اعتراض خلاف ورزی ہے۔

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ وہ ایک راکٹ کے ذریعے مشاہداتی سیٹلائٹ رواں ماہ (آٹھ فروری سے 25 فروری کے درمیان) لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے اس منصوبے کو اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا پر میزائل لانچ کرنے کی پابندی کی ’خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے مزید پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے چھ جنوری کو اپنا چوتھا جوہری تجربہ کیا تھا جس پر اسے بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا سیٹلائٹ بھیجنے کے پیچھے بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کا تجربہ کرنے منصوبہ ہے۔

Image caption شمالی کوریا نے چھ جنوری کو اپنا چوتھا جوہری تجربہ کیا تھا

انٹرنیشنل میریٹام آرگنائزیشن (آئی ایم او) کا کہنا ہے کہ انھیں شمالی کوریا کے آٹھ سے 25 فروری کے درمیان سیٹلائٹ بھیجنے کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی ہے۔

دوسری جانب شمالی کوریا کے برطانیہ میں سفیر نے تھنک ٹینک چیٹہم ہاؤس میں ستمبر میں کہا تھا کہ ان کا ملک بین الاقوامی تنقید سے خوفزدہ نہیں ہے۔

این کے نیوز کے مطابق سفیر ہیون ہاک بونگ نے کہا تھا کہ ’ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

’ایسا یقینا ایسا کریں گے۔ اگر وہ قراردادیں منظور کرتے ہیں یا پابندیاں لگاتے ہیں تو اس کو اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھا جائے گا۔۔۔ اور اس سے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ میں اس بات کی یقین دہانی کراتا ہوں کہ یہ پرامن مقاصد کے لیے ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے اس منصوبے سے شمالی کوریا کو طویل فاصلے تک نشانہ بنانے والے جوہری ہتھیاروں کے لیے ضروری ٹیکنالوجی کے چند مزید تجربات کرنے کا موقع ملے تھا۔

گذشتہ ہفتے امریکی حکام نے شمالی کوریا کے سوہائے سیٹیلائٹ لانچنگ سٹیشن کو ٹونگ چینگ ری کے نام بھی جانا جاتا ہے میں نقل و حمل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شمالی کوریا راکٹ خلا میں بھیجنے کی تیاری کررہا ہے۔

اسی بارے میں