سپین میں سوشلسٹ جماعت کو حکومت بنانے کی پیشکش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سوشلسٹ رہنما پیڈرو سینچیز نے کہا کہ وہ بدھ سے اتحاد کے قیام کے لیے تمام جماعتوں سے مذاکرات کا آغاز کریں گے

سپین میں دسمبر میں منعقدہ غیرفیصلہ کن انتخابات کے بعد اب سوشلسٹ جماعت کے رہنما پیڈرو سینچیز کو حکومت بنانے کی دعوت دی گئی ہے۔

ان کی جماعت انتخابات میں دوسری پوزیشن پر رہی تھی جبکہ حکمراں پاپولر پارٹی کے ماریانو راجوئے پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

دو نئی جماعتوں پوڈیموس اور سیوڈاڈنوس نے دسمبر میں منعقدہ انتخابات میں کامیابیاں سمیٹی تھیں۔

دیگر مقامی جماعتوں کے ساتھ مل کر وہ طاقت کا توازن قائم کیے ہوئے ہیں۔

بادشاہ فلپ ششم نے باضابطہ طور پر سوشلسٹ رہنما کو مدعو کیا اور انھیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔

اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے پیڈرو سینچیز نے کہا کہ وہ بدھ سے اتحاد کے قیام کے لیے تمام جماعتوں سے مذاکرات کا آغاز کریں گے تاکہ ’آئینی طاقتوں کے مدد سے مستحکم حکومت‘ بنائی جاسکے۔

350 نشستوں کی پارلیمان میں پاپولر پارٹی نے 123 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ سوشلسٹوں کو 90 نشستیں ملی تھیں۔ پوڈیموس نے 69 اور سیوڈاڈنوس نے 40 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

پیڈو سینچیز کی جانب سے پاپولر پارٹی کے ساتھ اتحاد نہ بنانے کے بعد پیڈرو سینچیز کو پوڈیموس اور کم از کم ایک مزید جماعت کا اتحاد درکار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گذشتہ ماہ بادشاہ فلپ کی جانب سے ماریانو راجوئے کو حکومت بنانے کی پیش کش کی گئی تھی

تاہم پوڈیموس اور سیوڈاڈنوس کے درمیان واضح اختلافات پائے جاتے ہیں اور سوشلسٹوں کی کاتالونیہ خطے کی آزادی کی مخالف کی وجہ سے کاتالان قوم پرست جماعتوں کے ساتھ اتحاد ممکن نہیں ہے، جن کے پاس پارلیمان میں کل 17 نشستیں ہیں۔

اگر نئی حکومت نہ بن سکی دوبارہ انتخابات کا اعلان کیا جائے گا۔

گذشتہ ماہ بادشاہ فلپ کی جانب سے ماریانو راجوئے کو حکومت بنانے کی پیش کش کی گئی تھی تاہم انھوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ وہ پارلیمان میں اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کر سکیں گے۔

سپین کی گذشتہ 40 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ شاہی خاندان کسی انتخابات کے بعد موثر کردار ادا کر رہا ہے۔

کئی دہائیوں سے پاپولر پارٹی اور سوشلسٹ پارٹی واضح اکثریتوں سے حکومتیں بناتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں