مصر کی عدالت کا اخوان المسلمین کے حامیوں کی سزائے موت روکنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد مرسی کو خود بھی کئی مقدمات کا سامنا ہے اور ان میں سے ایک مقدمے میں انھیں موت کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے

عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مصر کی اپیل کورٹ نے سابق صدر محمد مرسی کے 149 حمایتیوں کی سزائے موت کو ختم کر دی ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے پولیس سٹیشن پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

عدالت نے اس حملے جس میں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے کے ملزمان پر از سر نو مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قریب اگست سنہ 2013 میں پولیس نے سینکڑوں اسلام پسند مظاہرین کو گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔

فروری 2015 میں سلسلہ وار سزائے موت دیے جانے کے ابتدائی فیصلے پر عالمی سطح پر تنقید کی گئی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے برطرف کیے جانے والے صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا۔

عدالت نے عدم موجودگی پر 37 افراد کو بھی سزائے موت سنائی ہے لیکن انھیں نئے مقدمہ کے لیے خود کو حوالے کرنا پڑے گا۔ محمد مرسی کو برطرف کیے جانے کے بعد سے اب تک سات افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے جن میں چھ افراد وہ بھی شامل ہیں جن پر اسلامی شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق کا الزام تھا۔

محمد مرسی نے صرف ایک سال حکومت کی اور ان کی برطرفی کے بعد سے ان کے حامیوں کی جانب سے مظاہروں میں کافی حد تک اضافہ ہو گیا جنھیں روکنے کے لیے پولیس نے گولیوں کا استعمال کیا۔ 14 اگست 2013 میں صدر مرسی کی برطرفی کے دو ماہ بعد پولیس نے قاہرہ میں مظاہرین کے دو کیمپوں کو ہٹانے کی کوشش کی جس میں سات سو کے قریب مظاہرین ہلاک ہوئے۔ محمد مرسی کے حامیوں نے اس کے بعد ملک میں پولیس سٹیشنوں پر حملے کیے جس کے نتیجے میں درجنوں پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ محمد مرسی کو خود بھی کئی مقدمات کا سامنا ہے اور ان میں سے ایک مقدمے میں انھیں موت کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔

اسی بارے میں