یروشلم میں حملہ، اسرائیل کے دو سرحدی محافظ زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس کے مطابق محافظوں کے جانب سے شناختی کارڈ مانگنے پر فلسطینی نوجوانوں نے فائرنگ کر دی

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ مشرقی مقبوضہ یروشلم میں تین نوجوان فلسطینیوں نے فائرنگ کر کے دو خاتون اسرائیلی سرحدی محافظوں کو زخمی کر دیا ہے۔

دو افراد نے محافظوں پر پرانے شہر کے داخلی دروازے پر فائر کھول دیا۔ جس کے بعد اسرائیل کے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ایک سرحدی محافظ ہسپتال میں ہیں اور ان کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

گذشتہ چار ماہ کے دوران اسرائیلی عرب اور فلسطینیوں کی جانب سے چاقو کے وار، فائرنگ اور گاڑی سے کچلنے کے حملوں میں 28 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

اس دوران اسرائیل کا کہنا ہے کہ 160 سے زائد فلسطینی حملہ آور بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

یرشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کے مطابق پرانے شہر کے مشق دروازے کے قریب بازار میں بدھ کو ہونے والا حملہ مخصوص انداز میں کیا گیا۔

اسرائیل کی پولیس کا کہنا ہے کہ تین فلسطینیوں کو محافظوں نے روکا اور شناختی کارڈ دکھانے کو کہا۔

ان میں سے ایک نے پستول نکالا اور فائرنگ کر کے محافظوں کو زخمی کر دیا۔ جس کے بعد وہاں موجود دیگر اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے گولیاں مار کر تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے پاس تین خودکار ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ چاقو اور دو پائپ بم بھی موجود تھے۔

فلسطینی میڈیا کے مطابق یہ افراد شمالی غرب اردن میں جینن کے قریبی قصبے قباطیہ سے آئے تھے۔ دوسرے جانب اسرائیل کی شن بیٹ سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ اس سے قبل کسی شدت پسندانہ کارروائی میں ملوث نہیں تھے۔

چینل ٹی وی کے مطابق شدید زخمی ہونے والی محافظ جنھیں سر میں چوٹیں آئی ہیں ہداسہ ماؤنٹ سکوپس ہسپتال میں ’اپنی زندگی کے لیے لڑ رہی ہیں۔‘

اسی بارے میں