مذاکرات شام میں قیامِ امن کی آخری امید ہیں: سٹیفن میستورا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سٹیفن ڈی میستورا نے کہا کہ مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے شام میں ٹھوس تبدیلیوں کی ضرورت ہے

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سٹیفن ڈی میستورا نے کہا ہے کہ شام کے بحران کے حل کے لیے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کی مکمل ناکامی کا امکان ہے تاہم اس بات چیت کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔

سوئس ٹی وی آر ٹی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ مذاکرات ناکام رہے تو شام میں امن کی کوئی امید باقی نہیں رہے گی۔

ان کا یہ بیان شامی حزبِ اختلاف کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دن اقوامِ متحدہ کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کی منسوخی کے بعد سامنے آیا ہے۔

یہ ملاقات ان دعووں کے بعد منسوخ کی گئی کہ شام میں حکومتی افواج نے باغیوں پر حملے جاری رکھے ہیں۔

سعودی عرب کی حمایت یافتہ شامی حزبِ اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک مذاکرات نہیں کرے گی جب تک حکومتی افواج محاصرے اور بمباری کا سلسلہ بند نہیں کر دیتیں۔

مذاکرات میں شریک شامی حکومت کے وفد کے سربراہ بشار الجعفری کا کہنا ہے کہ حزبِ اختلاف قیامِ امن کے لیے سنجیدہ نہیں اور ان مذاکرات کے بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کی جانی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کا کہنا تھا کہ وہ تاحال مذاکرات کے مکمل ایجنڈے اور اس میں شریک حزبِ اختلاف کے نمائندوں کی فہرست ملنے کے منتظر ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ایلچی کا کہنا تھا کہ وہ بدھ کو ’مختلف وفود‘ سے ملاقاتیں کریں گے اور یہ کہ امریکہ اور روس شام کے پانچ برس سے جاری بحران کو حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پانچ سال کی تباہ کن جنگ کے بعد یہ عین ممکن ہے کہ (جینیوا میں جاری) مذاکرات ناکام رہیں۔ فریقین ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں اور ان میں باہمی اعتماد کی بہت کمی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر اس بار ناکامی ہوتی ہے تو شام کے لیے مزید کوئی امید باقی نہیں رہ جائے گی۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ناکامی نہ ہو۔‘

سٹیفن ڈی میستورا نے اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے شام میں ’ٹھوس تبدیلیوں‘ کی ضرورت ہے۔

ادھر برطانیہ کے وزیرِ خارجہ فلپ ہیمنڈ نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ صرف شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو نشانہ بنانے کی بجائے شامی صدر بشار الاسد کی مخالف تمام افواج پر بمباری کر کے ملک میں جاری خانہ جنگی کو بدتر بنا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ روس شام کے مستقبل کے نمائندہ افراد کو نشانہ بناتے ہوئے وہاں قیامِ امن کی کوششوں کی حمایت کا دکھاوا نہیں کر سکتا۔

روس نے برطانوی وزیر کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے اور روسی صدارتی دفتر کے ترجمان نے کہا ہے کہ روس بین الاقوامی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے شامیوں کی بہت مدد کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ایک کروڑ سے زیادہ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

یہ جنگ یورپ میں پناہ گزینوں کے بحران کا بڑا محرک بھی ہے۔

اسی بارے میں