اقوامِ متحدہ کے پینل کا جولیئن اسانژ کے حق میں فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جولیئن اسانژ کی ویب سائٹ وکی لیکس نے 2010 میں بڑی تعداد میں امریکی خفیہ دستاویزات افشا کی تھیں

اقوامِ متحدہ کے ایک پینل نے وکی لیکس کے بانی جولیئن اسانژ کی جانب سے ’غیرقانونی حراست‘ کی درخواست پر ان کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔

اسانژ برطانیہ سے سویڈن ملک بدری سے بچنے کے لیے جون سنہ 2012 سے مغربی لندن کے علاقے نائٹس برج میں واقع ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ گزین ہیں۔

جولیئن اسانژ کو سویڈن میں دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام کا سامنا ہے۔ وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں اور 2012 سے سویڈش استغاثہ ان سے تفتیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انھوں نے سنہ 2014 میں ’بلاوجہ یا ذاتی عناد کی بنا پر حراست‘ کے معاملات کا جائزہ لینے والے اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ کو درخواست دی تھی کہ انھیں ’بلاوجہ حراست‘ کا سامنا ہے اور اگر وہ سفارتخانے سے نکلے تو انھیں لازمی گرفتار کیا جائے گا۔

جمعرات کو اس درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پینل نے اسانژ کے حق میں فیصلہ دیا۔

اقوامِ متحدہ کا یہ پینل قانونی ماہرین پر مشتمل ہے جس نے اس معاملے میں برطانیہ اور سویڈن سے ثبوت جمع کیے۔

یہ پینل ماضی میں بھی حراستوں کے قانونی یا غیرقانونی ہونے کے بارے میں رائے دے چکا ہے۔

تاہم برطانوی یا سویڈش حکام اس کے رائے ماننے کے پابند نہیں اور برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اسانژ کو سویڈن کے حوالے کرنے کا پابند ہے۔

جولیئن اسانژ نے جمعرات کو ہی کہا تھا کہ اگر اقوام متحدہ کا پینل یہ قرار دے کہ ان کی گرفتاری غیرقانونی نہیں تو وہ خود کو برطانوی پولیس کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اس صورت میں وہ قبول کر لیں گے کہ ’مزید اپیل کرنا بےمعنی ثابت ہوگا۔‘

گذشتہ دسمبر میںایکواڈور نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ سویڈن کے حکام اسانژ سے پوچھ گچھ کر سکتے ہیں۔

جولیئن اسانژ کو یہ بھی خدشہ ہے کہ سویڈن ملک بدری کے بعد سویڈش حکام انھیں امریکہ بھیج دیں جہاں خفیہ امریکی دستاویزات شائع کرنے کی وجہ سے ان پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

برطانیہ کی جانب سے ایکواڈور پر الزام لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے سفارت خانے میں جولیئن اسانژ کو پناہ دیے کر انصاف کا راستہ روک رہا ہے۔

اسی بارے میں