شامی متاثرین کے لیے 10 ارب ڈالر سے زائد امداد کا وعدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کانفرنس کا ایک مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ سنہ 2017 تک بےگھر ہونے والے تمام بچوں کو سکول میں داخلہ دلوایا جا سکے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا ہے کہ لندن میں ہونے والی ڈونر کانفرنس میں شام میں جنگ سے متاثرہ لوگوں کے لیے دس ارب ڈالر سے زائد امداد کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون کے مطابق چھ ارب 80 کروڑ پاؤنڈ پر مشتمل رقم صحت، خوراک اور پناہ گاہوں کی فراہمی کے لیے خرچ ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک میں موجود مہاجرین کو بھی تعلیم اور نوکریوں کے حصول کا بہت موقع ملے گا۔

ترک وزیراعظم احمد اوغلو کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں شامی جنگ سے متاثرہ 70 ہزار افراد نے نقل مکانی کی۔

یہ اجلاس ایک ایسے موقع پر ہوا جب اقوامِ متحدہ کی جانب سے شام کے تنازع پر سوئس شہر جینیوا میں ہونے والے مذاکرات معطل کر دیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں

مذاکرات کی معطلی کا اعلان شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سٹیفن ڈی مستورا نے بدھ کو کیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ تعطل عارضی ہے۔

برطانیہ کے ے وزیراعظم نے نے ایک روز جاری رہنے والی اس کانفرنس کے بعد کہا ہے کہ صرف سنہ 2016 کے لیے چھ ارب ڈالر امداد کا وعدہ کیا گیا ہے اور باقی ماندہ پانچ ارب ڈالر سنہ 2020 تک دیے جائیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ترکی، اردن اور لبنان جہاں 40 لاکھ 60 ہزار مہاجرین موجود ہیں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ مہاجر بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کریں گے۔

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا مزید کہنا تھا کہ بین القوامی یونین ان ممالک کو مدد فراہم کرے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی نسل گمشدہ نہ ہو۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت 10 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے تاہم انھیں اگلے برس کے آخر تک تعلیم تک رسائی مل جائے گی۔

برطانوی وزیراعظم نے اپنے اعلان میں یہ بھی بتایا کہ ہمسایہ ممالک نے بھی دلیرانہ وعدے کیے ہی۔ ان میں 40 ارب ڈالر کے قرضوں کی فراہمی اور یورپی منڈیوں تک رسائی شامل ہے جس سے خطے میں ملازمت کے دس لاکھ مواقع پیدا ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماضی میں شام کے لیے منعقد کی جانے والی ڈونر کانفرنسیں زیادہ کامیاب نہیں رہیں

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ڈونر کانفرنس میں 60 ممالک کی شرکت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں بان کی مون نے کہا کہ عالمی برادری نے اس سے قبل کبھی ایک دن کے اندر کسی ایک مسئلے پر اتنی بوڑی رقم اکھٹی نہیں کی۔

ماضی میں شام کے لیے منعقد کی جانے والی ڈونر کانفرنسیں زیادہ کامیاب نہیں رہیں اور 2015 میں اقوامِ متحدہ کی امدادی اپیل کے نتیجے میں جن دو ارب 90 کروڑ ڈالر کی جس رقم کی فراہمی کے وعدے کیے گئے تھے اس میں سے صرف 43 فیصد رقم ہی دی گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے پاس جن 46 لاکھ شامی پناہ گزینوں کا اندارج ہے، ان میں سے چھ لاکھ 35 ہزار اردن میں موجود ہیں اور کانفرنس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا تھا کہ ان کے ملک کے لیے اس بحران سے نمٹنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جبکہ صدر بشار الاسد کی افواج اور باغیوں کے درمیان جنگ کےعلاوہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی سرگرمیوں کے باعث ایک کروڑ کے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں