’شام اور روس سیاسی نہیں بلکہ عسکری حل چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption جان کیری نے کہا کہ ہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ (شام اور روس کی) نیت سیاسی حل کی جگہ ایک عسکری حل کی ہے

امریکہ نے شامی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کا سیاسی حل نہیں چاہتی بلکہ اپنے اتحادی ملک روس کی مدد سے یہ معاملہ عسکری طور پر حل کرنا چاہ رہی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کی جانب سے یہ بیان اقوامِ متحدہ کی جانب سے شام کے تنازع پر سوئس شہر جینیوا میں ہونے والے مذاکرات کی معطلی کے بعد سامنے آیا ہے۔

مذاکرات کی معطلی کا اعلان شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سٹیفن ڈی مستورا نے بدھ کو کیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ تعطل عارضی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اختتام نہیں ہے اور نہ ہی مذاکرات کی ناکامی ہے؟‘

شامی حزبِ اختلاف نے بات چیت کی ’ناکامی‘ کی وجہ باغیوں کے ٹھکانوں پر مسلسل ہونے والی روسی بمباری کو قرار دیا ہے جبکہ روس نے اپنی یہ فضائی مہم بند کرنے سے انکار کیا ہے۔

بدھ کی شب واشنگٹن میں جان کیری کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’روسی مدد سے شامی حکومت کی افواج کے حزبِ مخالف کے کنٹرول والے علاقوں پر مسلسل حملے اور حکومتی افواج کی جانب سے لاکھوں شہریوں کا محاصرہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ نیت سیاسی حل کی جگہ ایک عسکری حل کی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب مخالف کے زیر انتظام شہر حلب جانے والے رسد کے اہم راستے کو کاٹ دیا ہے

انھوں نے کہا کہ ’وہ وقت اب گزر گیا کہ وہ (شامی حکومت اور اس کے حامی) شام کے بحران کے پرامن حل کے بارے میں اپنی نیت کے تناظر میں عالمی برادری کا اعتماد بحال کر سکیں۔‘

جان کیری نے کہا کہ ’(بات چیت میں) اس تعطل کے دوران دنیا کو چاہیے کہ وہ ایک ہی سمت میں آگے بڑھے جو کہ شامی عوام کی مشکلات اور وہاں جاری جارحیت کا خاتمہ ہے تاکہ یہ تنازع مزید جاری رہنے کی بجائے ختم ہو سکے۔‘

ادھر شامی حزبِ مخالف کے مذاکرات کار بسما کدمانی نے کہا ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو باغیوں پر شامی اور روسی بمباری کے جواب میں صرف بیان بازی تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے۔

واشنگٹن میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بمباری کا رکنا وہ فوری قدم تھا جو اٹھایا جا سکتا تھا۔ ورنہ تو یہ ہمارے لیے جینیوا کا ایک ویسا ہی دورہ تھا جو ہم نے سنہ 2014 میں کیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے جواب شدید فضائی حملوں کی شکل میں آیا۔ یہ حلب پر دوبارہ قبضے کے لیے اس علاقے پر روس کی ایسی فضائی مہم ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شامی حزبِ اختلاف نے بات چیت کی ’ناکامی‘ کی وجہ باغیوں کے ٹھکانوں پر مسلسل ہونے والی روسی بمباری کو قرار دیا ہے جبکہ روس نے اپنی یہ فضائی مہم بند کرنے سے انکار کیا ہے

خیال رہے کہ بدھ کو ہی شامی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب مخالف کے زیر انتظام شہر حلب جانے والے رسد کے اہم راستے کو کاٹ دیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق حکومتی فوجوں نے حلب کے شمال مغرب میں واقع نبل اور زھرا نامی قصبوں کا محاصرہ توڑ دیا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جبکہ صدر بشار الاسد کی افواج اور باغیوں کے درمیان جنگ کےعلاوہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی سرگرمیوں کے باعث ایک کروڑ کے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں