دولتِ اسلامیہ کےخلاف جنگ، سعودی پیشکش کا امریکی خیرمقدم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایش کارٹر کا کہنا تھا کہ اس پیشکش سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکومت دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ’کچھ زیادہ‘ کرنے پر تیار ہے

امریکہ نے سعودی عرب کی جانب سے امریکہ کی زیرِ قیادت اتحاد کی جانب سے شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کسی بھی زمینی فوجی کارروائی میں شامل ہونے کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔

سعودی عرب کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری نے جمعرات کو کہا تھا کہ شام میں شدت پسندوں کو شکست دینے کے لیے فضائی کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائیاں بھی ضروری ہیں۔ان کا ملک ایسی کسی بھی کارروائی کے لیے اپنی افواج فراہم کرے گا۔

امریکی وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر نے اس پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک کی جانب سے سرگرمیوں میں اضافہ امریکہ کے لیے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کو آسان بنا دے گا۔

ریاست نوادا میں فوجی اڈے کے دورے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کی خبریں اچھی ہیں‘ اور وہ آئندہ ہفتے برسلز میں اس بارے میں سعودی وزیرِ دفاع سے بات چیت کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشکش سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکومت دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ’کچھ زیادہ‘ کرنے پر تیار ہے۔

ایش کارٹر کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کہہ چکے ہیں کہ وہ اس جنگ میں مزید اسلامی ممالک کو شامل کرنے اور مستقبل میں عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے احیا کو روکنے کی کوشش کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل عسیری نے کہا کہ صرف فضائی کارروائیاں بہترین حل نہیں ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائیاں بھی ہونی چاہییں

اسے سے قبل العربیہ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کی زیرِ قیادت اتحاد میں شامل ممالک کے رہنما اگر شام میں فوجی کارروائی پر اتفاق کرتے ہیں تو سعودی عرب اس کا حصہ بنے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب شام کی سرزمین پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کسی بھی ایسے زمینی آپریشن کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے جس پر عسکری اتحاد کی قیادت متفق ہو۔‘

امریکی قیادت میں اتحاد ستمبر سنہ 2014 سے شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور سعودی طیارے بھی ان کارروائیوں میں شریک رہے ہیں۔

تاہم جنرل عسیری نے کہا کہ ان کے ملک کا موقف ہے کہ شام میں شدت پسندوں کو شکست دینے کے لیے فضائی کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائیاں بھی ضروری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ صرف فضائی کارروائیاں بہترین حل نہیں ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائیاں بھی ہونی چاہییں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی جنگی طیاروں نے شام میں 190 فضائی کارروائیاں کی ہیں

اس بارے میں جب امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان جان کربی سے رائے مانگی گئی تو انھوں نے کہا کہ امریکہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اتحادیوں کی مدد میں اضافے کا خیر مقدم کرتا ہے تاہم وہ زمینی کارروائیوں کی سعودی تجویز کا جائزہ لیے بغیر اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔

امریکہ خطے میں دولت اسلامیہ جیسی شدت پسند تنظیم سے نمٹنے کے لیے خلیجی ممالک پر مزید فوجی اقدامات کرنے اور مدد کرنے کے لیے زور دیتا رہا ہے۔

سعودی عرب اور اس کے پڑوسی خلیجی ممالک کا اتحاد گذشتہ کئی ماہ سے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔

تاہم امریکہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس فوجی طاقت کا مناسب استعمال دولت اسلامیہ کے خلاف ہو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

اسی بارے میں