’میری مسجد میں تشریف لائیں‘

Image caption برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے

برطانیہ بھر میں 90 سے زیادہ مساجد کے دروازے عام لوگوں کے لیے کھولے جا رہے ہیں تاکہ مسلمان انھیں مسلم مخالف شہ سرخیوں کے آگے اپنے عقیدے کے بارے میں معلومات فراہم کر سکیں۔

برطانیہ کی مسلم کونسل کو امید ہے کہ اتوار کو جب دروازے کھلیں گے تو کشیدہ دور میں عقیدوں کی حامل برادریوں میں اتحاد نظر آئے گا۔

کونسل کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلے اس بار تین گنا مساجد میں ’میری مسجد میں تشریف لائیں‘ پروگرام کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

یہ اقدام لندن میں مسلمانوں کے خلاف حملوں میں اضافے کے بعد کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ سال سینکڑوں حملے ہوئے تھے۔

’وزٹ مائی موسک ڈے‘ یعنی میری مسجد میں تشریف لائیں کے تحت ہونے والا ایک روزہ پروگرام اسلام مخالف تنظیم پیگیڈا کے حامیوں کی جانب سے برمنگھم میں سنیچر کو منعقدہ خاموش ریلی کے بعد منعقد کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے مذہبی امور کے نمائندے کیرولن واٹ کا کہنا ہے کہ اس میں دو سو سے کم افراد شریک ہوئے لیکن اس احتجاج میں اسلام کے خوف کو ظاہر کیا گیا تھا جسے اوپن ڈے میں بیان کیا جانا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانیہ بھر میں تقریباً ساڑھے سترہ سو مساجد ہیں

برطانیہ میں تقریباً 30 لاکھ مسلمان آباد ہیں اور یہ کُل آبادی کا پانچ فی صد ہیں اور برطانیہ میں 1750 مساجد ہیں۔

’میری مسجد تشریف لائیں‘ میں جو مساجد شامل ہیں ان میں لندن، برمنگھم، مانچسٹر، لیڈز، گلاسگو، کارڈف اور بلفاسٹ کی مساجدیں اہم ہیں۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ اس میں شرکت کرنے والی مساجد اسلام کی مختلف روایات کی نمائندگی کرتی ہیں اور اس میں مختلف عقائد کی مساجد شامل ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کے رہنماؤں کو بھی مدعو کریں گے اور ’سبھی سے یہ کہا جائے گا کہ مذاہب کو ماننے والی برادریوں کے لیے اس سخت دور میں وہ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔‘

اسی بارے میں