میانمار کے نئے صدر کا انتخاب مارچ میں ہی ہوگا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نئی پارلیمان میں بھی فوج نے ایک چوتھائی نشستیں اپنے لیے مخصوص رکھی ہیں

میانمار یعنی برما کی پارلیمان نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے نئے صدر کا انتخاب مارچ 2016 کے وسط تک ہی ممکن ہو سکےگا۔

پارلیمان کے مطابق اب ارکانِ پارلیمان ملک کے صدر اور نائب صدور کے انتخاب کا عمل 17 مارچ کو شروع کریں گے۔

اس تاخیر کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے تاہم اس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے کہ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی ایک ایسا قانون بنانا چاہ رہی ہے جس کے تحت الیکشن میں کامیاب ہونے والی جماعت کی قائد آنگ سان سوچی کے ملک کی صدر بننے کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہو سکے۔

سوچی جنھیں فوجی جنتا کے دور میں 15 برس گھر میں نظر بند رکھا گیا ملکی آئین کے تحت صدر بنے کی اہل نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تین مہینے پہلے ہونے والے عام انتخابات میں آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی

ملک کے آئین کے تحت کوئی شہری جس کے بچے غیر ملکی شہریت رکھتے ہوں صدارت کے عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا۔ سوچی کے بچے برطانوی شہری ہیں۔

تین مہینے پہلے ہونے والے عام انتخابات میں آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔

وہ اور ان کی جماعت ملک کے اقتدار پر قابض فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں کئی دہائیوں تک زیرعتاب رہیں۔

نئی پارلیمان میں بھی فوج نے ایک چوتھائی نشستیں اپنے لیے مخصوص رکھی ہیں اور اسے اب بھی کئی اہم وزارتوں کا کنٹرول حاصل ہے۔

پارلیمان کے فرائض میں ایک یہ چیز بھی شامل ہے کہ مارچ کے آخر میں سبکدوش ہونے والے ملک کے موجودہ صدر تھیئن سین کے جانشین کا انتخاب کرے۔

اسی بارے میں