’کینیڈا دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے نہیں کرے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹروڈو نے اپنے انتخابی مہم کے دوران چھ جنگی طیاروں کو شام اور عراق سے واپس بلانے کا وعدہ کیا تھا

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام اور عراق میں شدت پسندوں کے ٹھکانے پر بمباری 22 فروری سے بند کر دے گا۔

دارالحکومت اوٹاوا میں ٹروڈو نے کہا کہ صرف فضائی حملوں سے مقامی لوگوں کو طویل مدتی فائدہ نہیں پہنچایا جا سکتا۔

گذشتہ سال اکتوبر میں وزیر اعظم بننے والے ٹروڈو نے اپنے انتخابی مہم کے دوران چھ جنگی طیاروں کو شام اور عراق سے واپس بلانے کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈا ان علاقوں میں اپنے دو نگراں طیاروں کی تعیناتی جاری رکھے گا۔

کینیڈا وہاں طیاروں کو ایندھن کی فراہمی بھی جاری رکھے گا۔ ساتھ ہی دولتِ اسلامیہ سے لڑ نے والے مقامی فوجیوں کی تربیت کے لیے کینیڈا کے فوجیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کرے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی جنگ میں اپنے فوجیوں کی موت کے بعد کینیڈا کے زیادہ تر لوگ بیرون ملک فوجی مشن کے لیے اب بہت زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔

جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا ’یہ اہم ہے کہ ہم سمجھیں کہ فضائی حملے محدود فوجی اور ریاستی مقاصد حاصل کرنے کے لیے تو ٹھیک ہیں لیکن یہ معاشروں کے لیے طویل المدتی استحکام نہیں پیدا کر سکتے۔‘

ان کے اس فیصلہ پر حزبِ مخالف نے یہ کہتے ہوئے تنقید کی ہے کہ کینیڈا ایسے مںی دولتِ السامیہ کے خلاف جنگ سے پیچھے ہٹ رہا ہے جو اس کے اتحادی اس لڑائی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں