ترکی میں کشتی الٹنے سے متعدد تارکین وطن ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ترکی کے میڈیا کا کہنا ہے کہ ترکی کے ساحل سے یونان کے جزیرے لیزبوس پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن میں سے کم از کم 24 ہلاک ہوگئے ہیں۔

بالیکثیر صوبے کے علاقے التینولک سے روانہ ہونے والی کشتی کے ڈوبنے سے ہلاک ہونے والے افراد میں بچے بھی شامل ہیں۔

اس سے پہلے دو واقعات میں ہلاک ہونے والے تارکین وطن کی تعداد 33 بتائی گئی تھی۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے مطابق رواں سال یورپ میں داخل ہونے کی کوشش میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چار سو کے قریب ہے۔

ان میں سے زیادہ تر افراد یونان کی جانب سفر کر رہے تھے۔ شام میں جاری حالیہ تنازع کی وجہ سے ہزاروں افراد ترکی کی سرحد پر آ رہے ہیں۔

گذشتہ سال میں یورپ میں داخل ہونے کے لیے پناہ گزینوں میں سب سے زیادہ مقبول روٹ ترکی سے یونان کا ہے۔

حریت اخبار کا کہنا ہے کہ تازہ واقعے میں کشتی سرحد عبور کرنے سے دو میل قبل ڈوب گئی۔

اخبار نے ازمیر صوبے میں ایک اور کشتی کے ڈوبنے کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے مطابق رواں سال 5 فروری تک کم از کم 374 افراد یورپ جانے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

آئی او ایم کے مطابق طوفانی حالات کے باوجود اس سال میں اب تک 69 ہزار افراد یونان کے ساحل پر اتر چکے ہیں۔ گذشتہ سال میں یہ تعداد آٹھ لاکھ 54 ہزار تھی۔

آئی او ایم کا کہنا ہے کہ رواں سال یونان آنے والوں میں نصف تعداد شام سے آنے والے افراد کی ہے۔

یورپی یونین کے سربراہان کی جانب سے تارکین وطن کو سرحد عبور کرنے کی اجازت دی جانے کی درخواست کے باوجود ترکی نے کیلیس سرحد کے قریب جمع 35 ہزار تارکین وطن کے لیے سرحد بند کر رکھی ہے۔