بجلی کی کمی، کاراکاس کے شاپنگ سینٹرز کے اوقاتِ کار نصف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت نے گھریلو صارفین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بجلی کے استعمال میں بچت کرنا شروع کریں

وینیزویلا میں توانائی کے بحران کی وجہ سے دارالحکومت کاراکاس میں شاپنگ سینٹر اب دن میں صرف چار گھنٹے کے لیے کھلا کریں گے۔

شاپنگ سینٹرز کے مالکان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے وہ حکومت کے بجلی کے استعمال کو محدود کرنے کی مہم پر عمل کر سکیں گے۔

وینیزویلا کے حکام کا کہنا ہے کہ ال نینو کی وجہ سے پڑنے والے قحط سے ملک کے تقریبا 18 بجلی پیدا کرنے والے ڈیموں میں پانی کی سطح انتہائی کم ہوگئی ہے۔

حکومت کی خوردہ فروش تنظیم کے ترجمان کےمطابق کام کے اوقات کار میں کمی کرنے سے لوگوں کی ملازمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

وینیزویلا میں بجلی پیدا کرنے والی سرکاری کمپنی، کورپولیک کی تجویز ہے کہ دن میں دو دفعہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے جن میں دوپہر ایک سے تین بجے تک اور شام سات سے نو بجے تک کے اوقات شامل ہیں۔

جبکہ دکانداروں کی تنظیم، دی چیمبر آف وینیزولین کمرشل سینٹرز (کاویسیو) نے اس کی نعم البدل تجویز دی تھی جس کے مطابق دکانوں کو دن کے 12 بجے کھولا جائے اور شام سات بجے تک بند کردیا جائے۔ اس طرح پورے دن میں پانچ گھنٹے بجلی کی بچت ممکن تھی۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ انھیں اس تجویز کے متعلق حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

کاراکاس کے ایک شاپنگ سینٹر میں پیزا کی دکان پر کام کرنے والی ایک خاتون میلیڈیز گالوز کا کہنا ہے کہ ’دن کے ایک بجے بجلی بند کرنے سے ہمارے کام پر بہت برا اثر پڑے گا، کیونکہ دن کے ایک بجے کے بعد اکثر دفاترمیں کھانے کا وقفہ ہوتاہے اور اس ہی وقت ہمارے گاہکوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔‘

دکانداروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ کاروبار کو دن میں دو مرتبہ بند کرنے اور کھولنے سے بینکوں ، صحت کے مراکز، خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں، فارمیسی، سپر مارکیٹوں اور خاص طور پر ریستورانوں کے کام پر بہت برا اثر پڑے گا جو اپنی اشیائے خوردونوش کو ریفریجریٹر میں محفوظ رکھنے کے لیے بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ کاروبار کے اوقات کار کو دن میں صرف چار گھنٹے کرنے سے شاپنگ سینٹروں کے ملازمین پر بھی اثر پڑے گا کیونکہ 75 فیصد شاپنگ سینٹرز میں دو شفٹوں میں کام ہوتاہے۔

حکومت نے گھریلو صارفین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بجلی کے استعمال میں بچت کرنا شروع کریں جبکہ رواں برس جنوری سے گھریلو صارفین کے لیے پانی کا کوٹہ بھی مقرر کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں