خواتین کو ہلیری کلنٹن سے کیا مسئلہ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سابق وزیر خارجہ میڈلن البرائٹ کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہلری کلنٹن کی حمایت کرنی چاہیے

’اُن خواتین کے لیے دوزخ میں ایک خاص جگہ بنائی جائے گی جو دیگر خواتین کی مدد نہیں کرتی ہیں۔‘

یہ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ میڈلن البرائٹ کا ایک بیان ہے جس کا مقصد ہلیری کلنٹن کی مدد کرنا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ غیر ارادی طور پر خواتین ووٹروں کے حوالے سے ان کے مسائل بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

مجھے ہلیری کلنٹن کی طرف سے ایک ای میل آئی جس میں انھوں نے پوچھ: ’کیا تم میرے ساتھ ہو؟‘

میں تو ان انتخابات میں ووٹ نہیں دے سکتا لیکن شاید انھیں یہ سوال ان نوجوان خواتین سے پوچھنا چاہیے جو ووٹ دے سکتی ہیں، کیونکہ اس معاملے میں انھیں کافی مسائل کا سامنا ہے۔

آٹھ سال پہلے امریکہ کی پہلی خاتون صدر منتخب کے لیے انتخابی دوڑ میں شامل ہو کر ہلیری کلنٹن نے ایک بے مثال قدم اٹھایا تھا، لیکن شاید ان کی یہ کوشش سنہ 2016 میں بھی ناکام نہ ہو جائے۔

شاید امریکہ سے باہر کئی لوگ یہ پڑھ کر کہیں گے کہ جھے خواتین سے نفرت ہے۔ لیکن بات اس سے کئی زیادہ بڑی ہے۔

کچھ ماہ قبل میں نے لاس ویگس کے ون ہوٹل میں منعقد ہونے والی پہلی ڈیموکریٹک مباحثے میں شرکت کی اور لوگوں سے ہلیری کے بارے میں ان کی رائے پوچھی تھی۔

ان تمام لوگوں کی ایک ہی رائے تھی:’نہ انھیں ہلیری پسند تھیں اور نہ ہی ان پر بھروسہ تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلری کلنٹن کے مقابلے میں نوجوان خواتین برنی سینڈرز کو زیادہ ووٹ دے رہی ہیں

چلو یہ تو کچھ لوگوں پر مبنی ایک چھوٹے گروہ کی رائے ہے۔ اب کچھ اصل اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے آئیووا میں ہونے والے صدارتی امیدوار کے فیصلے سے متعلق ووٹنگ میں 30 برس سے کم عمر کی خواتین میں سے 84 فیصد نے 74 سالہ برنی سینڈرز کو اپنے ووٹ دیے۔ اس کے مقابلے میں ہلیری کو محض 14 فیصد ہی ملے۔

نیو ہیمپشائر کی پیشنگوئی اس سے بھی زیادہ حیران کن تھی۔ 30 برس سے کم عمر کی خواتین میں سے 92 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ سینڈرز کو ووٹ دیں گی جبکہ 30 سے 39 سال کی عمر کی خواتین کے نطریات بھی زیادہ مختلف نہیں تھے۔

ان میں سے صرف 11 فیصد ہلیری کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

امریکی قوم کا خیال ہے کہ وہ ہلیری کو بہت قریب سے جانتی ہے۔ کچھ لوگوں نے انھیں اپنے شوہر بل کلنٹن کا ساتھ نہ چھوڑنے پر کبھی معاف ہی نہیں کیا تھا جب وہ لیونسکی سکینڈل میں پھنسے ہوئے تھے۔

لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ خواتین کے حقوق کے لیے لڑنے والی ایک نمائندہ تھیں تو انھیں بل کلٹن کو چھوڑ دینا چاہیے تھا۔

یہ سب تب سمجھ بھی آتا اگر ہلیری کو مسترد کرنے والی خواتین عمر میں بڑی ہوتیں لیکن اس معاملے میں انھیں ووٹ نہ دینے کا ارادہ رکھنے والی خواتین زیادہ تر نوجوان ہیں، جنھیں بل کلنٹن کے سکینڈل کے بارے میں زیادہ معلوم بھی نہیں ہے۔

کلنٹن خاندان سے تعلق ہونے کی بنیاد پر ہی کچھ لوگ تو ہلیری سے نفرت بھی کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty and AP
Image caption کچھ لوگوں کو اس بات سے اعتراض ہے کہ مانیکا لیونسکی کے سکینڈل کے بعد ہلری کلنٹن نے اپنے شوہر کا ساتھ کیوں دیا تھا

کئی مردوں اور خواتین کا خیال ہے کہ کلنٹنز مغرور، دولت مند، ہر چیز پر اپنا حق جتانے والے اور اپنے آپ کو معاشرے میں سب سے اوپر تصور کرنے والے لوگ ہیں۔

ہلیری کے بارے میں لوگوں کے خدشات مزید بڑھ گئے جب ان کی ای میلز پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔

ہلیری کلنٹن کی ای میلز ایک نجی ای میل اکاؤنٹ کے ذریعے جا رہی تھیں جن کی تحقیقات اب امریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی کر رہا ہے۔

ووٹرز کے اس حلقے میں ہلیری کلنٹن کیوں ناکام ہو رہی ہیں، یہ ان کی ٹیم کے لیے یقیناً ایک بہت اہم سوال بن چکا ہوگا۔

کیا اس کی وجہ تحریک نسواں کی نسل سے مختلف سے سوچ رکھنے والے افراد ہیں جنھیں اپنے اگلے رہنما کی صنف سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟

کیا اس نسل کو برنی سینڈرز کی شکل میں ایک مختلف رہنما چاہیے جو اپنی سوشلسٹ پالیسیوں کے ذریعے اسے وہ تبدیلی فراہم کرے گا جس کی وہ خواہشمند ہے؟

تو پھر ہلیری اس کا حل کیسے نکالیں گی؟

اختتام ہفتے کے دوران انھوں نے ریاست مشی گن میں فلنٹ کے شہر کا دورہ کیا جہاں پر عوامی صحت کا ایک بہت بڑا سکینڈل خبروں میں ہے۔

فلنٹ میں مقیم زیادہ تر سیاہ فام اور غریب آبادی کو صاف پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

افریقی نژاد امریکی شہریوں نے روایتی طور پر کلنٹنز کا ساتھ ہی دیا ہے اور جب جنوبی ریاستوں میں صدارتی امیدوار کے فیصلے کی یہ دوڑ پہنچے گی تو کلنٹن یہیں سے سینڈرز کو شکست دینے اور فاتح حاصل کرنے کی امید رکھتی ہیں۔

اسی بارے میں