’شمالی کوریا پلوٹونیم بم بنا سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے یونگبیون میں اپنے جوہری پلانٹ میں پھر سے پلوٹونیم کی افزودگی شروع کر دی ہے

امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ جیمز کلیپر کا کہنا ہے کہ اپنے ری ایکٹروں میں سے ایک کو دوبارہ چلانے کے بعد شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار پلوٹونیم کی مقدار جلد میسر ہوسکتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پیونگ یانگ نے یہ اقدامات ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل نظام بنانے کے لیے کیے ہیں۔

یہ بیان شمالی کوریا کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ کے تجربے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے، جس کے متعلق نقادوں کا کہنا ہے یہ ممنوعہ میزائل ٹیکنالوجی کا تجربہ تھا۔

گذشتہ سال ستمبر میں پیونگ یانگ نے بتایا تھا کہ یانگ بیون میں ملک کا اہم جوہری پلانٹ اپنی معمول کی کارروائیاں دوبارہ سے شروع کرچکا ہے۔

وہاں موجود ری ایکٹر شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے پلوٹونیم پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ شمالی کوریا نے جنوری میں اپنا چوتھا جوہری تجربہ کیا تھا۔

کلیپر نے امریکہ کو لاحق خدشات کے حوالے سے اپنے سالانہ تجزیے میں لکھا ’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شمالی کوریا اپنے یانگبیونگ کی افزودگی کی سہولت میں توسیع اور پلوٹونیم پیدا کرنے والے ری ایکٹر کو دوبارہ شروع کر کے اپنے اعلانات کی پیروی کررہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ North Korean TV via YonhapReuters
Image caption امریکہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے سیٹلائٹ لانچ کے بہانے حال ہی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا ہے

ہم نے مزید جائزہ لیا ہے کہ شمالی کوریا کافی عرصے سے اپنا ری ایکٹر چلا رہا ہے تاکہ شمالی کوریا ری ایکٹر کے ایندھن سے کچھ ہفتوں یا مہینوں میں پلوٹونیم دوبارہ حاصل کرسکتا ہے۔‘

کلیپر نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ پیونگ یانگ کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیار سے لیس میزائل سے ’امریکہ کو براہ راست خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا نے ایک موبائل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل نظام کو عوامی سطح پر دکھایا اور ’اس نظام کو شروع کرنے کے لیے ابتدائی اقدامات کر لیے ہیں، اگرچہ اس نظام کی پرواز کا تجربہ نہیں کیا گیا ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب یہ نظام مکمل طور پر کام کرنے لگے گا تو یانگبیون کا ری ایکٹر پلوٹونیم سے ہر سال ایک جوہری بم بنا سکتا ہے۔ ایک بم بنانے کے لیے تقریباً چار کلو پلوٹونیم کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ 20 کلوٹن کی قوت کے ساتھ پھٹے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ شمالی کوریا اپنے منصوبے پر کاربند ہے

پیونگ یانگ اِن جوہری آپریشنوں کو روکنے کا کئی بار وعدہ کرچکا ہے اور یہاں تک کہ سنہ 2008 میں انھوں نے امدادی معاہدے کے لیے تخفیفِ اسلحہ کے ایک حصے کے طور پر اپنے کولنگ ٹاور کو بھی تباہ کر دیا تھا۔

تاہم مارچ سنہ 2013 میں امریکہ کے ساتھ ایسے ہی ایک معاہدے کے مطابق اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے تیسرے جوہری تجربے پر عائد پابندیوں کے باوجود انھوں نے یانگبیون میں تمام سہولیات دوبارہ سے شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

جنوبی کوریا، امریکہ، چین، جاپان اور روس سمیت چھ ملکی مذاکرات جن میں شمالی کوریا کے جوہری منصوبے کو ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا وہ مذاکراتی عمل سنہ 2009 سے تعطل کا شکار ہے۔

اسی بارے میں