’پناہ گزین بچےسکولوں کےاثاثے بن سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پناہ گزین بچے اپنے دیگر ہم جماعتوں کی نسبت سکولوں میں زیادہ بہتر نتائج دیتے ہیں

پناہ گزینوں کے بحران کے باعث کئی ممالک میں سکولوں کو نئے آنے والے طالب علموں کو جگہ فراہم کرنا پڑ رہی ہے۔

لیکن تنظیم برائے اقتصادی تعاون اور ترقی (او ای سی ڈی) میں تعلیم کے ڈائریکٹر اینڈریاس سِلائچر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی امتحانوں سے اِس بات کے ثبوت ملتے ہیں کہ پناہ گزین بچے اپنے نئے سکولوں کے لیے مصیبت کے بجائے اُن کے اثاثے بن سکتے ہیں۔

پناہ گزین بچے اکثر ہوتے ہیں اور اُن کے والدین پرعزم ہوتے ہیں۔

یہ بچے تعلیم کے لیے بے قرار ہوتے ہیں اور یہ اپنے دیگر ہم جماعتوں کی نسبت زیادہ بہتر نتائج دیتے ہیں۔

سنہ 1954 میں امریکہ نے شام سے تعلق رکھنے والے ایک پناہ گزین کے لیے اپنی سرحدیں کھول دی تھی۔

اس شخص کے بیٹے سٹیو جابز دنیا کے سب سے زیادہ تخلیقی آدمیوں میں سے ایک بنے۔

اُنھوں نے اپنے ذاتی کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہوئے اینیمیٹڈ موویز، موبائل فون میں موسیقی اور ڈیجیٹل پبلشنگ کے ذریعے سے صنعتوں میں انقلاب برپا کردیا۔

پناہ گزینوں کے موجودہ بحران میں یہ پریوں کی کہانیوں کی طرح نظر آتا ہے، لیکن یہ اِس طرح کا غیرمعقول بالکل نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سٹیو جابس کے والد 1954 میں امریکہ آئے تھے

نوجوان پناہ گزین کو ثقافتی، سماجی اور اقتصادی مشکلات درپیش آسکتی ہیں۔ بین الاقوامی پیسا (بین الاقوامی طالبعلموں کی تشخیص کے پروگرام) امتحان کے اعدادو شمار کے مطابق امریکہ میں پناہ گزینوں کا پسِ منظر رکھنے والے 15 سالہ طالبعلموں کی دس فیصد نے پناہ گزینوں کا پسِ منظر نہ رکھنے والے طالبعلموں کی طرح کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

یہ صرف امریکہ کی بات نہیں ہے۔ 37 میں سے 13 ممالک کے اعدوشمار کے ساتھ جس میں برطانیہ بھی شامل ہے، بچوں کے سماجی پسِ منظر کے حساب کے بعد پیسا کے امتحان میں دس فیصد بہترین پناہ گزین بچے اپنے دیگر ہم جماعتوں سے کم سے کم دس پوئنٹ آگے تھے۔

اِن بلند حوصلہ طالبعلموں میں اپنے میزبان ممالک کے لیے غیر معمولی حصہ ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے۔

تمام ممالک میں اوسطاً بات کی جائے تو پیسا کے ریاضی کے امتحان میں پناہ گزین اور دیگر بچوں کی اعلیٰ کارکردگی کی سطح ایک ہی تھی۔

اپنا گھر بار چھوڑنے کی قربانیاں دینے کے بعد بہت سے پناہ گزین موقع کا فائدہ اُٹھانے کے لیے پرعزم ہیں جو کہ پیدا ہورہے ہیں۔

اُن کے بچے بھی تعلیمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ پیسا کے امتحان کے سوالات طالبعلموں کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی کوششوں پر رضامندی کے حوالے سے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شام سے امریکہ آنے والے ایک پناہ گزین یونیورسٹی شروع کر رہے ہیں

او ای سی ڈی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پناہ گزین بچے اور اُن کے والدین میں کامیابی کا جذبہ ہوتا ہے، جیسا کہ بہت سارے معاملات میں ہوتا بھی ہے اور کچھ معاملات میں وہ سبقت لے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر بیلجیئم، جرمنی اور ہنگری میں مقامی والدین کے مقابلے میں پناہ گزین بچوں کے والدین میں اِس بات کی خواہش زیادہ ہوتی ہے کہ اُن کے بچے یونیورسٹی جائیں اور ڈگری حاصل کریں۔

اِس کو سب سے قابل ذکر بنانے والی بات یہ ہے کہ یہ پناہ گزین خاندان اپنے مقامی پڑوسیوں کے مقابلے میں غریب ہیں اور اُن کے بچے سکولوں میں کم کارکردگی کا مظاہرہ کرپاتے ہیں۔ لیکن اِس سب کے باوجود والدین کو اپنے بچوں سے اب بھی اعلیٰ توقعات ہیں۔

جب نئے آنے والے غریب تارکین وطن اور مقامی محروم خاندانوں کے درمیان موازنہ کی بات ہو تو والدین کی توقعات کے فرق میں اضافہ ہورہا ہے۔

بیلجیئم، جرمنی، ہانگ کانگ اور ہنگری میں مقامی بچوں کے مقابلے میں پناہ گزین طالبعلموں کے والدین اپنے بچوں سے زیادہ اعلی تعلیمی توقعات رکھتے ہیں۔

پناہ گزین طالبعلم بہت زیادہ پُرعزم نظر آتے ہیں۔ ایک جیسی صلاحیت رکھنے والے طالبعلموں کے موازنے کے درمیان اکثر پناہ گزین نوجوانوں کو اپنے حوصلہ مند مستقبل سے بہت توقعات ہوتی ہیں۔

اِس طرح کے اعتماد سے کامیابیاں ملتی ہے۔ طالبعلم جو بلند حوصلہ رکھتے ہیں، اپنے تعلیمی امکانات کے بارے میں ابھی تک حقیقی توقعات رکھتے ہیں، وہ بہت زیادہ محنت اور اپنے تعلیمی مواقعوں کا بہترین استعمال کرتے ہیں جو کہ اُنھیں میسر ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہالینڈ میں پناہ گزین بچے سکول جا رہے ہیں

تاہم پناہ گزین پسِ منظر رکھنے والے کئی طالبعلموں کو سکولوں میں بے پناہ معاملات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اُنھیں فوری طور پر مختلف تعلیمی معاملات میں جگہ بنانے کی ضرورت، نئی زبان میں تعلیم حاصل کرنا، سماجی شناخت بنانا، جس میں اُن کا پسِ منظر اور اُن کے نئے ملک دونوں شامل ہوں، جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جبکہ اکثر کو اپنے اہلخانہ اور ساتھیوں کی جانب سے متضاد دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جب پناہ گزینوں کو غریب بستیوں اور سکولوں کے ذریعے سے الگ کیا جائے اور اُنھیں ایک نئے معاشرے میں یکجا کیا جائے تو اِس طرح کی مشکلات بڑی ہو جاتی ہیں۔

یہ حیران کردینے والی بات نہیں ہے کہ پیسا کے امتحان کے نتائج میں پناہ گزین بچے مقامی بچوں کی نسبت پیچھے رہ گئے ہیں۔

تاہم یہ اوسطاً کاکردگی کا فرق نتائج کو نہیں چھپا سکتا ہے، کئی پناہ گزین طالبعلم اپنی مشکلات پر قابو پا رہے اور تعلیمی لحاظ سے سبقت لے جارہے ہیں۔

یہاں پناہ گزین بچوں کی کم کاردگی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہے، جیسے کہ پیسا کے امتحان کے نتائج میں یہ بات سامنے آگئی ہے کہ وہ مختلف ممالک میں مختلف نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔

پناہ گزین طالبعلموں کا سکولوں میں داخلہ کوئی بحرانی نقطہ نہیں ہے، لیکن اِس کے بعد کیا ہوگا۔ اِس کا انحصار اِس بات پر ہے کہ آیا سکول تیار ہیں اور وہ پناہ گزینوں کی کامیابی میں مدد اور نقصانات کو کم کرنے کے قابل ہیں جن کا وہ سامنا کرسکتے ہیں۔

دنیا تیز رفتاری کے ساتھ پیچیدہ اور غیر یقینی جگہ بنتی نظر آرہی ہے، لیکن کچھ پناہ گزین طالبعلم اِس حوالے سے مثال ہیں کہ کس طرح سے معاشرے بہت زیادہ ہم آہنگ اور مضبوط بنا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں