برطانیہ: ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث ہزاروں آپریشن ملتوی

Image caption ڈاکٹر ہڑتال کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے رہے ہیں

برطانیہ میں نوجوان ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث تقریباً تین ہزار آپریشن ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

نوجوان ڈاکٹر حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے کنٹریکٹ کے تحت تنخواہوں میں کمی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم بی ایم اے کا موقف ہے کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے نئے کنٹریکٹ کے تحت نوجوان ڈاکٹروں کو زیادہ گھنٹے کام کرنا پڑے گا اور ساتھ ہی انھیں ملنے والی تنخواہوں میں بھی کمی ہو گی۔

حکومت اور ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم کے درمیان مذاکرات جنوری سے تعطل کا شکار ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت ڈاکٹروں کی رضامندی کے بغیر ہی نیا کنٹریکٹ لاگو کر دے گی۔

ڈاکٹر ہڑتال کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ اس مسئلے کا اب تک حل نہ ملنے کی وجہ ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم بی ایم اے ہے۔

برطانیہ کے مختلف شہروں میں واقع سرکاری ہسپتالوں میں آج صبح آٹھ بجے نوجوان ڈاکٹروں نے کام چھوڑ دیا جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔

موجودہ کنٹریکٹ کے تحت برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو شام سات سے لے کر صبح سات اور ہفتے اور اتوار کے روز کام کرنے کے عوض اضافی الاؤنس دیا جاتا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نئے کنٹریکٹ کے تحت اضافی الاؤنس رات دس سے لے صبح سات اور صرف اتوار کو کام کرنے کی صورت میں ہی دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں تقریباً 50 ہزار نوجوان ڈاکٹر ہیں جو ملک کی ہیلتھ سروس میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی بارے میں