شام میں جنگ بندی پر عالمی طاقتوں میں عدم اتفاق

Image caption شام کے صوبے حلب میں شدید لڑائی کی وجہ سے 50 ہزار لوگ بے گھر ہو چکے ہیں

امریکہ کی طرف سے شام میں جاری خانہ جنگی کو فوری طور پر روکنے کی کوششوں کو روس کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

یہ بات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب شام کے بحران سے متعلق امن مذاکرات کو بحال کرنے کے لیے عالمی طاقتیں میونخ میں مل رہی ہیں۔

’حلب پر حملہ تین لاکھ افراد کو محصور کردے گا‘

مغربی اہلکاروں کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق روس نے یکم مارچ کو جنگ بندی کی تجویز دی تھی لیکن امریکہ کا خیال ہے کہ ماسکو شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے تین ہفتوں کا وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب خطے میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔

عالمی امدادی ایجنسی انٹرنیشنل کمیٹی آف دا ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کا کہنا ہے کہ شام کے صوبے حلب میں جاری لڑائی میں حالیہ دنوں میں آنے والی شدت کے باعث 50 ہزار لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ امداد پہنچانے کےراستے بھی بند کروا دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں پر ’شدید دباؤ‘ ہے۔

Image caption ترکی نے گذشتہ پانچ برسوں میں 25 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کو پناہ دی ہے

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق روسی فضائی حملوں کے حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں نے حلب کے شمال میں واقع ایک سابق شامی فوجی اڈے سے جنگجوؤں کو نکال دیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’دا سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ روسی جنگی طیاروں نے شدت پسندوں پر کم از کم 30 فضائی حملے کیے ہیں اور کرد ملیشیا نے میناغ کے اڈے پر تقریباً مکمل قبضہ کر لیا ہے۔

روسی وزارت دفاع کے حوالے سے ملنے والی خبروں کے مطابق روسی جنگی طیاروں نے شام میں گذشتہ ہفتے 510 حملے کیے تھے۔

روس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فضائی حملوں میں’دہشت گردوں‘ کو ہدف بناتا ہے لیکن مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ مرکزی دھارے کے حزب اختلاف کے گروپوں کے خلاف بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں جو شامی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے جمعرات کو براہ راست نشر ہونے والے ٹی وی خطاب میں تنبیہ کی کہ اگر فضائی حملے جاری رہے تو پناہ گزینوں کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

شام سے جڑی ہوئی ترکی کی سرحد کو کھولنے کے مطالبوں کے حوالے سے انھوں نے مزید کہا کہ ترکی ایک حد تک صبر کرے گا، لیکن پھر وہ کارروائی کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

میونخ میں روس، امریکہ، سعودی عرب، ایران اور دیگر طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوران توقع ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری فوری طور پر جنگ بندی اور حلب میں امدادی کارکنوں کی رسائی کے لیے زور دیں گے۔

لیکن شامی حکام نے اب تک کوئی ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ حلب میں جنگ کی شدت کم کرنے کا ان کا کوئی ارادہ ہے۔۔

اسی بارے میں