پورے ملک پر اپنی عملداری بحال کروں گا: بشارالاسد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عالمی طاقتوں کے شام میں جنگی اقدامات اور کارروائیاں روکنے پر اتفاقِ رائے کے ایک دن بعد شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ وہ پورے ملک پر اپنا کنٹرول بحال کریں گے۔

جمعے کو فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ شام میں باغیوں کو شکست دینے میں کچھ وقت لگے گا کیونکہ انھیں بیرونی مدد حاصل ہے۔

صدر اسد نے کہا کہ وہ شام میں امن بحال کرنے کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کے باوجود وہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

جمعرات کو شام کے بحران پر جرمنی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد عالمی طاقتوں نے شام میں ’جنگی اقدامات اور کارروائیاں روکنے‘ کے لیے اتفاق کیا تھا۔

تاہم یہ جنگ بندی جہادی گروہوں دولتِ اسلامیہ اور النصرہ فرنٹ کے لیے نہیں ہے۔

اقوام متحدہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ 24گھنٹوں میں محصور علاقوں میں امداد پہنچانے میں کامیابی ہوگی۔

دمشق میں بات کرتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ سرکاری افواج بغیر کسی ہچکچاہٹ کے تمام شام کو واپس لینے کی کوشش کریں گی لیکن علاقائی طاقتوں کی مداخلت کی وجہ سے اس مسئلے کا حل زیادہ وقت لے گا اور اس میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

شامی صدر بشارالاسد نے اقوام متحدہ کی جانب سے ان کی حکومت پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی۔

انھوں نے الزامات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کرنے والوں نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

شامی صدر کے بقول وہ مذاکرات پر اور تنازع کے آغاز سے ہی اس کے سیاسی حل پر یقین رکھتے ہیں۔

’اگر ہم بات چیت کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف لڑائی روک دیں، یہ دونوں ٹریک ناگزیر ہیں۔‘

صدر بشارالاسد کے مطابق انھیں یقین ہے کہ باغی فورسز کی حمایت کرنے والے سعودی عرب اور ترکی شام میں فوجی مداخلت کر سکتے ہیں۔

گذشتہ پانچ برس سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ڈھائی لاکھ شامی شہری ہلاک جب کہ ایک کروڑ دس لاکھ افراد بےگھر ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں