ڈاکٹروں کا پناہ گزین بچی کو ہسپتال سے فارغ کرنےسےانکار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آسٹریلوی حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد کو روکنے کے لیے جزیرے پر قائم کیے گئے حراستی مراکز ضروری ہیں

آسٹریلیا میں زیرِ علاج پناہ گزین بچی کو ملک بدری سے بچانے کے لیے ڈاکٹروں کی جانب سے اسے ہسپتال سے فارغ نہ کرنے کے فیصلے کی حمایت میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ہپستال کے باہر مظاہرہ کیا ہے۔

برسبین کے شہر میں واقع لیڈی سیلینٹو ہسپتال کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک اس ایک سالہ بچی کے رہنے کے لیے مناسب گھریلو ماحول انتظام نہیں ہو جاتا اسے ہسپتال سے فارغ نہیں کیا جائے گا۔

سیاسی پناہ کے متلاشی ماں باپ کی اس بچی کو تارکینِ وطن کے لیے نورو جزائر پر قائم کیمپ میں جھلس جانے کے باعث شدید زخم آئے تھے۔

آسٹریلوی حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد کو روکنے کے لیے جزیرے پر قائم کیا گیا حراستی مرکز ضروری ہے۔

اس بچی کے لیے مہم چلانے والے گروہ ’گیٹ اپ‘ کے ترجمان ایلن رابٹز کا کہنا ہے کہ ’ مظاہرین اس بچی کے والدین اور ہسپتال کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ ہم وزیراعظم میلکم ٹرن بل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ منصفانہ فیصلہ کریں اور اس خاندان کو ملک میں رہنے دیں۔‘

خیال رہے کہ نورو جزائر پر قائم حراستی مرکز میں تقریباً 500 تارکینِ وطن رہائش پذیر ہیں۔

گذشتہ برس پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ حراستی مرکز رہنے کے لیے محفوظ نہیں ہے اور وہاں پر موجود تارکینِ وطن کا جانب سے ریپ اور غیر مناسب سلوک کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

آسٹریلیا کے نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کے مطابق یہ بچی حراستی مرکز کے ایک ٹینٹ میں اپنے والدین کے ساتھ مقیم تھی جہاں پر گرم پانی کے گرنے کے باعث یہ جھلس گئی تھی۔

اسی بارے میں