عیسائی مذہب کے دو فرقوں کی تاریخی ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دونوں فرقوں کے سربراہوں کے درمیان 11 ویں صدی کے بعد پہلی بار ملاقات ہوئی ہے

دنیا کے دو اہم عیسائی مسلکوں کے درمیان کیوبا میں ہونے والے تاريخی مذاکرے میں پوپ فرانسس اور قدامت پسند روسی چرچ کے سربرہ پیٹریارک کیرل نے میسیحی اتحاد کو بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔

11 ویں صدی میں عیسائیت کے مغربی اور مشرقی شاخوں میں تقسیم کے بعد سے پوپ اور روسی چرچ کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔

ایک مشترکہ اعلامیے میں انھوں نے مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں کے خلاف ہونے والے مظالم سے عیسائیوں کو بچانے کی اپیل کی۔

پوپ اب پانچ روزہ دورے پر میکسیکو پہنچ چکے ہیں جہاں تقریباً تین لاکھ افراد نے سرد موسم کی پروا کیے بغیر ان کا استقبال کیا۔

خیال رہے کہ میکسیکو میں کیتھولک عقیدے کے ماننے والوں کی تعداد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔

میکسیکو کے صدر اینرک پینا نیئٹو نے ایئرپورٹ پر پوپ کا استقبال کیا۔

جمعے کو ہوانا ایئرپورٹ پر پوپ فرانسس اور پیٹریارک کیرل کے درمیان گفتگو دو گھنٹے تک جاری رہی۔ اس کے بعد پیٹریارک کیرل برازیل اور پیراگوئے کے لیے روانہ ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملاقات کے بعد پوپ میسیکو کے لیے روانہ ہوئے جبکہ کیرل لاطینی امریکہ کے لیے روانہ ہو گئے

بات چیت سے قبل دنوں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے اور بوسے دیے۔

روسی چرچ کے سربراہ نے کہا: ’پیارے بھائی، میں آپ کا استقبال کرکے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔‘

بات چیت کے بعد نیوز کانفرنس میں کیرل نے کہا بات چیت ’کھلے اور برادرانہ ماحول‘ میں ہوئی جبکہ پوپ نے گفتگو کو ’سنجیدہ‘ قرار دیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا: ’ہمیں امید ہے کہ اس ملاقات سے وہ اتحاد بحال ہونے میں مدد ملے گی جو خدا کو منظور ہے۔‘

اس میں مسیحی برادری کے دفاع کی بات کہی گئی اور کہا گيا: ’مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے کئی ممالک میں ہمارے ہم عقیدہ بھائیوں اور بہنوں کے پورے خاندان، گاؤں اور شہروں ختم کیا جا رہا ہے۔ ان کے چرچ کو ظالمانہ طور پر لوٹا جا رہا ہے ان کی مقدس چیزوں کی بے حرمتی کی جا رہی ہے اور ان کی یادگار عمارتوں کو برباد کیا جا رہا ہے۔‘

اسی بارے میں