امریکی سپریم کورٹ کے قدامت پسند جسٹس اینٹونن انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی سپریم کورٹ کےقدامت پسند جسٹس صاحبان میں سے ایک جسٹس اینٹونن سکیلیا کا انتقال ہو گیا ہے۔

جسٹس اینٹونن کی موت کے باعث صدر براک اوباما کو موقع مل گیا ہے کہ وہ قدامت پسند جسٹس کی جگہ پانچواں لبرل جسٹس تعینات کر سکیں۔

سپریم کو کورٹ میں زیادہ تر قدامت پسند جسٹس صاحبان موجود ہیں۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے لیے گئے موسمی تبدیلی اور امیگریشن کے اقدامات کو روک دیا ہے۔

جسٹس انٹونن 79 سال کے تھے اور ان کو سابق صدر رونلڈ ریگن نے تعینقات کیا تھا۔

جسٹس اینٹونن کا شمار ان جسٹس صاحبان میں ہوتا تھا جن کا خیال تھا کہ امریکی آئین کا مفہوم وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہو سکتا۔

جسٹس انٹونن نے اپنے پورے کریئر میں اسقاط حمل اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کی مخالفت کی تھی۔