اسرائیلی فورسز کی فائرنگ، مزید تین فلسطینی نوجوان ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گذشتہ پانچ ماہ کے دوران تشدد کے واقعات میں 160 سے زیادہ فلسطینی جبکہ 28 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں

مقبوضہ غرب اردن میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے تین فلسطیینی نوجوان ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے دو فلسطینیوں نے جنین کے علاقے میں گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور بعد میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار وہاں پہنچے تو ان پر رائفل سے فائرنگ کی گئی۔

فلسطینی تنازع کا حل، ایک ملک دو ریاستیں؟’بان کی مون دہشت کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں‘

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی جوابی فائرنگ میں دو فلسطینی نوجوان ہلاک ہو گئے۔

فلسطینی وزارتِ صحت نے ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی شناخت نحاد وکید اور فواد وکید کے نام سے کی ہے اور دونوں کی عمر 15 برس تھی۔

دوسرے واقعے میں اسرائیلی حکام کے مطابق یروشلم کے مضافات میں سکیورٹی چیک پوسٹ کی جانب چاقو سے مسلح فلسطینی بھاگتا ہوا جا رہا تھا تو وہاں تعینات ایک اہلکار نے اسے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

دونوں واقعات میں کسی اسرائیلی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔

گذشتہ پانچ ماہ کے دوران اسرائیلی عربوں اور فلسطینیوں کی جانب سے چاقو کے وار، فائرنگ اور گاڑی سے کچلنے کے حملوں میں 28 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران 160 سے زائد فلسطینی حملہ آور بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فلسطین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پسے ہوئے لوگوں کی انسانی فطرت ہوتی ہے کہ وہ قبضے کے خلاف ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ حملوں کی حالیہ لہر فلسطینیوں، بطور خاص نوجوانوں میں تنہائی اور مایوسی کے گہرے احساس کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ نصف صدی سے قبضے اور امن کے عمل کے مفلوج ہونے کے بوجھ کی وجہ سے فلسطینیوں کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس پراسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے ان پر دہشت کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی بارے میں