ایران میں سعودی معاملات کا نگہبان سوئٹزرلینڈ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سفارت خانے پر حملے کے بعد سعودی عرب کی حکومت نے ایران سے تحریری طور پر احتجاج کیا تھا

سعودی عرب اور سوئٹزرلینڈ کی حکومتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تہران میں سعودی عرب کے قونصل خانے کے معاملات سوئٹزرلینڈ کے سفارت کار دیکھیں گے۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں گذشتہ ماہ مظاہرین کی جانب سے سعودی سفارت خانے کی عمارت کو آگ لگانے کے واقعے کے بعد سعودی عرب نے تہران سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔

تہران میں سعودی سفارتخانے پر مظاہرین کا حملہ ایران و سعودی عرب ’خطرناک ترین موڑ‘ پر

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ریاض میں اپنے سوئس ہم منصب کے ساتھ نیوز کانفرنس میں بتایا کہ’سوئزرلینڈ نے سعودی عرب کے ایران میں قونصل معاملات دیکھنے کی پیشکش کی جس کو سعودی عرب نے خیرمقدم کرتے ہوئے قبول کر لیا۔‘

خیال رہے کہ مظاہرین نے سعودی عرب کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو سزائے موت دینے پر مشتعل ہو کر سعودی سفارت خانے پر حملہ کیا تھا۔

سفارت خانے پر حملے کے بعد سعودی عرب کی حکومت نے ایران سے تحریری طور پر احتجاج کیا تھا۔

ایران نے اپنے ردِعمل میں کہا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے شیخ نمر کو پھانسی دیا جانا مہنگا پڑ سکتا ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے سوئٹزرلینڈ سے ایران کے ساتھ اپنے تنازعے کے حل کے لیے ثالثی کے لیے نہیں کہا ہے اور جب تک ایران ہمسایہ ممالک میں مداخلت بند نہیں کرگا اس کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے۔

سعودی حکومت نے گذشتہ ماہ شیخ نمر النمر سمیت 47 افراد کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام میں سزائے موت دے دی تھی جس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدگی کا شکار ہیں۔

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے سعودی عرب کی جانب سے شیخ نمر النمر کو سزائے موت دینے پر سعودی حکمرانوں کا موازنہ شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ سے کیا تھا۔

ایران ایک عرصے سے سعودی عرب پر ملک کی شعیہ آبادی سے امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتا آیا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے حکام شیعہ مسلک کے شہریوں کے خلاف تعصب سے انکار کرتے ہیں اور ایران پر سعودی عرب میں بے چینی پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

اسی بارے میں