مصر میں انسانی حقوق کے نئے خدشات

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption احتجاج کے دوران اس پلے کارڈ پر لکھا ہے: ’گیولیو ہم میں سے تھا اور ہماری طرح مارا گیا‘

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں حال ہی میں ایک اطالوی طالب علم گیولیو ریگینی کے موت نے ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔

مصر میں پانچ سال قبل شروع ہونے والے ملک گیر مظاہروں نے صدر حسنی مبارک کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

گیولیو ریگینی مصر میں ٹریڈ یونینز اور مزدوروں کے حقوق پر تحقیق کر رہے تھے، وہ ملک گیر مظاہروں کے آغاز کی پانچویں برسی کے موقعے پر 25 جنوری کو لاپتہ ہوگئے تھے۔

ایک ہفتے کے زائد وقت کے بعد ان کی لاش ایک سڑک کے کنارے سے ملی جبکہ ایک سینیئر مصری پراسیکیوٹر کے مطابق ان پر تشدد کے ’واضح نشانات‘ موجود تھے۔

مصر میں آن لائن برہمی کے اظہار کے دوران بہت سارے افراد نے اس موت میں پولیس کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

مصر کے سرکاری میڈیا نے اس کی تردید کی اور حکام نے ان الزامات کو جھوٹ اور افواہیں قرار دیا۔

لیکن بہت سارے مصریوں کے خیال میں گیولیو ریگینی کا معاملہ اس لیے سامنے آیا کیونکہ وہ غیرملکی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر السیسی نے 25 جنوری کو مظاہروں کی پانچویں برسی کے موقع پر قوم سے خطاب کیا

انسانی حقوق کی تنظیموں نے سنہ 2013 سے اس وقت ملک کی افواج کے سابق سربراہ اور اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹا کر صدر بننے والے عبدالفتاح السیسی کے دور سے مبینہ زیادتیوں کی نشاندہی کی ہے۔

ابتدائی طور پر اخوان المسلمین کے ارکان اور ان کے حمایتوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں تاہم اب انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اب حکومت کی مخالفت کرنے والا کوئی شخص محفوظ نہیں ہے۔

وزیر داخلہ مجدی عبدالغفار نے بارہا ’جبری گمشدگیوں‘ اور پولیس کے حراست میں تشدد کی خبروں کی تردید کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے خطرے کی بنا پر سکیورٹی کے ضروری انتظامات ناگزیر ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسے سینکڑوں افراد جن کا دولت اسلامیہ یا ممنوعہ تنظیم اخوان المسلمین سے کوئی تعلق نہیں ہے، انھوں نے جسمانی تشدد، جنسی تشدد، صوابدیدی حراست، گمشدگی، طویل المدت گرفتاری، سخت سزاؤں، غیرمنصفانہ مقدمات اور حراست کے دوران اموات کا سامنا کیا ہے۔

سنہ 2011 میں ابھرنے والی تحریک میں ہیرو سمجھے جانے والے طالب علم، صحافی، اساتذہ اور سیکیولر رجحان رکھنے والے کارکن اب جیلوں میں ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت پر ’انسدادِ تشدد قانون میں ترمیم کی وکالت کرنے والے خودمختار وکلا اور ججوں کو ہراساں کرنے کا‘ الزام بھی عائد کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گذشتہ سال جزیرہ نما عرب میں روسی مسافر طیارے کے حادثے نے سکیورٹی خدشات بڑھا دیے ہیں

ایجپشیئن کمیشن فار رائیٹس اینڈ فریڈمز کے مطابق گذشتہ سال اگست اور نومبر میں 340 افراد میں پانچ افراد مردہ ملے، جن میں سے ایک پر تشدد کے نشانات تھے، جبکہ بیشتر جیل میں ڈال دیے گئے۔

اس تنظیم کی جانب سے سنہ 2016 میں 35 گمشدگیاں سامنے آئی ہیں۔ ان میں سے دو مردہ حالت میں ملے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں جن افراد کو گرفتار کیا گیا ان میں صحافی حسام بہجت بھی شامل تھے، جنھیں بین الاقوامی احتجاج کے بعد رہا کر دیا گیا۔ بہت سے غیرمعروف افراد ابھی بھی جیلوں میں ہیں۔

ایک گمشدگی قاہرہ کی عین شمس یونیورسٹی کے انجینئرنگ کے طالب علم اسلام اتیتو سے متعلق تھی، جنھیں آخری مرتبہ مئی 2015 میں دیکھا گیا تھا جب دو افراد نے انھیں ایک امتحانی مرکز سے اٹھا لیا تھا۔ اگلے دن ان کی لاش قاہرہ کے مشرق میں واقع صحرائی علاقے سے ملی۔

وزارت داخلہ نے اسلام اتیتو پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے کہا انھوں نے ایک پولیس افسر کو قتل کیا ہے۔ وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ صحرا میں ایک ٹھکانے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے اور انھوں نے پہلے فائرنگ کی تھی۔

اسلام اتیتو کی والدہ ایک ویڈیو میں سامنے آئیں جس میں انھیں روتے ہوئے یہ کہتے دیکھا جا سکتا تھا کہ ان کے بیٹے کے جسم پر ’زخم کے نشانات‘ ہیں اور ان کے بازو ’ٹوٹے ہوئے‘ تھے۔

مصر میں صدر سیسی کے بڑھتے ہوئے ناقدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سنہ 2011 میں ہونے والے مظاہروں کے حامیوں کے خلاف کارروائیوں سے متعلق ہیں اور ملک کے اصل مسائل پر مناسب اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سنہ 2011 میں ابھرنے والی تحریک میں ہیرو سمجھے جانے والے طالب علم، صحافی اور سیکیولر رجحان رکھنے والے کارکنان اب جیلوں میں ہیں

حکومت کو سلامتی کے مسائل کو سامنا ہے اور یہ جزیرہ نما سینا میں شدت پسندوں تک محدود نہیں۔ معیشت میں غیرملکی سرمایہ کاری اور سیاحت میں کمی کا سامنا ہے۔

ناقدین کے خیال میں خلیجی ممالک کی مالی معاونت کی حامل سیسی انتظامیہ کے پاس بڑے مسائل کے حل کے لیے کھوکھلے وعدوں اور ملک کے شام یا لیبیا بننے کی تنبیہ کرنے کے علاوہ بہت کم راستے ہیں۔

کچھ ناقدین کے خیال میں اس طرح کے اقدامات سے حسنی مبارک کے مخالفت میں شروع ہونے والے مظاہروں جیسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔

تاہم مبصرین کے خیال میں مستقبل قریب میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کا انعقاد ممکن نہیں کیونکہ عدم استحکام و خوف اور خطے میں پہلے سے بھی بری صورت حال کے بارے میں خدشات ہیں۔

اب جبکہ اٹلی گیولیو ریگینی کی موت سے متعلق سوالات کے جواب کے لیے قاہرہ پر دباؤ ڈال رہا ہے، مصری یہی امید کر سکتے ہیں ان کی حکومت پر یہ بین الاقوامی دباؤ اس وقت ختم نہ ہو جب نیوز کیمرے کسی اور جانب ہوں۔

اسی بارے میں