ایہود اولمرت کی قید کی سزا شروع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرت کی 19 ماہ قید کی سزا شروع ہو گئی ہے۔

ایہود اولمرت اسرائیل میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے پہلے رہنما ہیں جو قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

اولمرت کو بیت المقدس کے میئر کی حیثیت سے رشوت لینے کے جرم میں سنہ 2014 میں چھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس سزا کو کم کر کے 18 ماہ کر دیا گیا تھا لیکن گذشتہ ہفتے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں ان کی سزا میں ایک ماہ کا اضافہ کر دیا گیا۔

اسرائیل کے 70 سالہ رہنما نے گذشتہ پیر کو ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ رشوت لینے کے الزام کی تردید کرتے ہیں۔

مارچ سنہ 2014 میں ان پر یروشلم کے میئر کی حیثیت سے رہائشی کالونیاں تعمیر کرنے والی ایک کمپنی سے پانچ لاکھ شیکل اور ایک اور کمپنی سے 60 ہزار شیکل رشوت لینے کا جرم ثابت ہو گیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے ان کو پانچ لاکھ شیکل رشوت لینے کے الزام سے بری کر دیا تھا اور ان کی سزا کم کرکے 18 ماہ کر دی گئی تھی۔

اس ماہ کی دس تاریخ کو سزا ختم کرنے کے عوض رشوت کی رقم جمع کرانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ان کے اس اعتراف کے بعد ان کی سزا میں ایک ماہ کی توسیع کر دی کہ انھوں نے اپنی سیکریٹری کو اپنے خلاف گواہی دینے سے منع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے ابھی ایہود اولمرت کی طرف ایک امریکی بزنس مین سے رشوت لینے کے جرم میں 18 ماہ کی سزا کے خلاف دائر کردہ اپیل پر فیصلہ نہیں کیا۔

اسی بارے میں