’شام میں فوجی بھیجے، نہ ہی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترک حکومت کا الزام ہے کہ شام میں سرگرم کرد گروپ ’پی وائے ڈی‘ کا تعلق ترکی میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے ہے

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق ترکی کے حکام نے شام کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ ترک فوجی سرحد عبور کر کے شام میں داخل ہوئے ہیں۔

ملک کے وزیرِ دفاع عصمت یلماز نے ایک پارلیمانی کمیشن کو یہ بھی بتایا ہے کہ حکومت شام میں فوج بھیجنے پر غور نہیں کر رہی ہے۔

شامی حکومت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کو تحریر کیے گئے ایک خط میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے سو کے قریب مسلح افراد شام کی حدود میں داخل کیے ہیں جو یا تو ’ترک فوج کے ارکان ہیں یا پھر کرائے کے فوجی ہیں۔‘

شامی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’ترکی کے جرائم اور حملوں کا جواب دینے اور ان سے ہونے والے نقصان کی تلافی کا مطالبہ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘

اس سے قبل ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو نے کہا تھا کہ ممکن ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے فوجی شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند تنظیم کے خلاف زمینی کارروائی میں حصہ لیں۔

خیال رہے کہ ترکی اور سعودی عرب شام میں باغیوں کے حمایتی ہیں جنھیں حال ہی میں شامی فوج نے روس کی فضائی مدد سے کئی علاقوں میں شکست دی ہے۔

شام کی حکومت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیداران کو بھیجے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’ترک توپخانے کی شامی سرزمین پر گولہ باری مسلح دہشت گرد تنظیموں کی براہِ راست مدد کے مترادف ہے۔‘

شام نے ترکی کی جانب سے شامی سرزمین پر کرد ملیشیا کو نشانہ بنائے جانے کو اپنی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ HDP
Image caption ترکی کے وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے سرحدی علاقے میں شامی کردوں کی پوزیشنوں پر گولہ باری کا سلسلہ جاری رہے گا

اس نے اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی ترکی نے شمالی شام میں ان کرد افواج پر گولہ باری کی تھی جو صوبہ حلب میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔

ترکی کے وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے سرحدی علاقے میں شامی کردوں کی پوزیشنوں پر گولہ باری کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ترک حکومت کا کہنا ہے کہ وہاں سرگرم کرد گروپ ’پی وائے ڈی‘ کا تعلق ترکی میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے ہے جو کئی دہائیوں سے تُرکی کے اندر خودمختاری کے لیے مہم چلا رہی ہے۔

تاہم امریکہ اور دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ شام میں سرگرم کرد ملیشیا، دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔

پی وائے ڈی کے ایک ترجمان نے بھی کہا ہے کہ ترکوں کو شام کے امور میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ اور دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ شام میں سرگرم کرد ملیشیا، دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے

شامی کردوں نےتُرکی کے اس مطالبے کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ وہ ترک سرحد کے ان قریبی علاقوں سے نکل جائیں جہاں انھوں نے حال ہی میں قبضہ کیا ہے۔

دریں اثنا فرانس کی وزارتِ خارجہ نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی بند کرے۔

فرانسیسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ’ خراب ہوتی ہوئی صورتحال پر اسے تشویش ہے۔‘

اتوار کو امریکی صدر براک اوباما اور روس کے صدر ولادی میر پوتن نے شام میں جنگ بندی کے لیے گذشتہ ہفتے ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق بھی کیا۔

ٹیلی فون پر ہونے والے رابطے میں دونوں رہنماوں نے دہشت گردی کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دینے کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔

روس اس سے پہلے خبردار کر چکا ہے کہ شام میں کسی بیرونی ملک کی زمینی مداخلت کے نتیجے میں جنگ عظیم بھی شروع ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں