شام میں ہسپتالوں پر فضائی حملے، دس افراد ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

شام کے شمال مغربی علاقے میں واقع تین ہسپتالوں پر ہونے والے فضائی حملوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

عالمی تنظیم میدساں سان فرنتیر کے مطابق معرۃ النعمان کے علاقے میں فضائی حملے کے بعد سے اس کے عملے کے سات افراد ہلاک اور آٹھ لاپتہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ علاقے میں ایک اور ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

تنظیم نے شامی حکومت کی حامی فورسز کو ان فضائی حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

دریں اثنا عینی شاہدین اور طبی عملے کے مطابق ترکی کی سرحد کے ساتھ شامی علاقے اعزاز میں ایک ہسپتال کی عمارت پر ہونے والے بم حملے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ترکی نے اعزاز کے حملے کا ذمہ دار روس کو ٹھہرایا ہے۔

ترکی کے وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ اعزاز میں عمارتیں روسی بیلسٹک میزائل کا نشانہ بنی ہیں جن میں بچوں کی بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MSF
Image caption میدساں ساں فرنتیر طبی امداد پہنچانے والا ادارہ ہے

طبی عملے کے ایک رکن جمعہ راحال نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’ہم ہسپتال سے چیختے ہوئے کئی بچوں کو باہر نکال رہے ہیں۔‘

اعزاز میں جزوی طور پر تباہ ہونے والے ایک ہسپتال کو چلانے والی امدادی تنظیم سیرئین چیرٹی کی اہلکار انفال سوک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’جہاں ہسپتال ہے وہاں پر کوئی دہشت گرد نہیں صرف مقامی آبادی ہے۔ یہ لازمی ایک دانستہ حملہ تھا، کیونکہ صرف ہمارے ہی طبی مرکز کو نشانہ نہیں بتایا گیا۔‘

’روسی اس علاقے کو نشانہ بنا رہے ہیں کیونکہ ہم اسے اعتدال پسند حزب اختلاف کی جانب سے آزاد کرایا جانے والا علاقہ کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں ننانوے فیصد یقین ہے کہ یہ روس کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملے ہیں۔‘

یہ فضائی حملے روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان شام میں جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے چند دن بعد ہوئے۔ شام میں گذشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی میں ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام میں سرکاری افواج اور صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالفین کے درمیان جاری جنگ، جس میں شدت پسند تنظیمیں بھی شامل ہو گئی ہیں، میں اب تک ایک کروڑ دس لاکھ افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سے قبل بھی اس تنظیم کے ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا جا چکا ہے

میدساں ساں فرنتیر کا کہنا ہے کہ باغیوں کے زیرِ قبضہ مرآۃ النعمان قصبے میں قائم اس کے ہسپتال پر چار راکٹ داغے گئے۔ یہ قصبہ ادلب کے شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے 30 بستروں پر مشتمل ہسپتال میں کام کرنے والے آٹھ ارکان لاپتہ ہیں۔

شام کے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد میں بچے بھی شامل ہیں۔ اس حملے میں بہت سے لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے شام میں تنظم کے سربراہ میسی میلانیو ریبودنگو کے حوالے سے کہا ہے کہ ’یہ ایک طبی ادارے کو نشانہ بنانے کی دانستہ کوشش ہے۔‘

اس حملے کے تباہ ہونے سے اس علاقے میں مقیم 40 ہزار سے زیادہ افراد علاج معالجے کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس ماہ کی پانچ تاریخ کو دیرا کے علاقے میں قائم اسی تنظیم کے ہسپتال پر فضائی حملے میں تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں