شام میں ہسپتالوں اور سکولوں پر فضائی حملے،’50 افراد ہلاک‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اقوام متحدہ کے مطابق شام کے شمال میں ہسپتالوں اور سکولوں پر میزائل حملوں کے نتیجے میں تقریباً 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک حملہ عالمی تنظیم میدساں سان فرنتیر کے ہسپتال پر معرۃ النعمان کے علاقے میں ہوا ہے جس کے بارے میں میدساں سان فرنتیر کا کہنا ہے کہ ’ہسپتال کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق: ’اس قسم کے حملے بین الاقوام قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔‘

شام میں ہسپتالوں پر فضائی حملے، دس افراد ہلاک

بعض تنظیموں نے ان حملوں کا ذمہ دار روس کو ٹھہرایا ہے۔ تاہم روس کی جانب سے اس حوالے سے ابھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

روس شام میں باغیوں کے خلاف شامی حکومت کی حمایت کر رہا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان کو نشانہ بنا رہا ہے جو ’دہشت گرد ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق ادلیب صوبے کے علاقے معرۃ النعمان میں دو ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

عالمی تنظیم میدساں سان فرنتیر کا کہنا ہے کہ ’اس کے ایک ہسپتال کو چند منٹوں کے دوران چار میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی حادثاتی حملہ نہیں تھا بلکہ جان بوجھ کر ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔‘

ایم ایس ایف کے مطابق فضائی حملے کے بعد سے اس کے عملے کے سات افراد ہلاک اور آٹھ لاپتہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MSF
Image caption میدساں ساں فرنتیر طبی امداد پہنچانے والا ادارہ ہے

تنظیم کے فرانس میں صدر میگو تیرزیان نے خبر راساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’واضح طور پر یا تو شامی حکومت اور یا پھر روس ان فضائی حملے کے ذمہ دار ہیں۔‘

مقامی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ’معرۃ النعمانمیں ایک اور ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق ترکی کی سرحد کے ساتھ شامی علاقے اعزاز میں دو ہسپتالوں اور دو سکولوں پر ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ترکی نے اعزاز کے حملے کا ذمہ دار روس کو ٹھہرایا ہے۔

عالمی ادارے یونیسیف کے مطابق سکول پر ہونے والے حملے میں چھ بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

ترکی کے وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ اعزاز میں عمارتیں روسی بیلسٹک میزائل کا نشانہ بنی ہیں جن میں بچوں کی بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

طبی عملے کے ایک رکن جمعہ راحال نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’ہم ہسپتال سے چیختے ہوئے کئی بچوں کو باہر نکال رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں