لیزر کو’مہلک ہتھیاروں‘ میں شامل کیا جائے

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption واقعے کے وقت جہاز پر 252 مسافر جبکہ عملے کے 15 اراکین سوار تھے

لندن سے نیویارک جانے والی ایک پرواز کے کاک پٹ پر لیزر شعاع پھینکے جانے کے واقعے کے بعد برٹش پائلٹس کی یونین نے کہا ہے کہ لیزر کو’مہک ہتھیاروں‘ میں شمار کر کے اس پر برطانیہ میں پابندی لگائی جائے۔

پائلٹس کی جانب سے یہ مطالبہ اس واقعے کے بعد کیا گیا ہے جس میں برطانوی ہوائی کمپنی ورجن اٹلانٹک نے تصدیق کی کہ لندن سے نیویارک جانے والی ایک پرواز کے کاک پٹ پر لیزر شعاع پھینکے جانے کے واقعے کے بعد طیارے کو واپس ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر اتار لیا گیا ہے۔

یونین کے مطابق ’لیزر غیر معمولی حد تک خطرناک ہے اور پائلٹ کو اندھا کر سکتی ہے۔‘

برٹس ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری کے مطابق جہازوں پر لیزر سے خطرناک حد تک حملے ہو رہے ہیں اور جس میں لیزر کی طاقت میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

’جدید لیزر میں اپنی صلاحیت ہے کہ وہ اندھا کر سکتی ہیں اور یقیناً یہ بے حد نقصان کا اقدام ہے اور پرواز کے ایک اہم مرحلے میں پائلٹ چندھیا سکتا ہے۔ ‘

پیر کو جہاز کے عملے کے ایک فرد نے آئرش ایئر ٹریفک کنٹرول سے کہا تھا کہ ’ٹیک آف کے فوراً بعد لیزر شعاع پھینکے جانے کے باعث ایک پائلٹ کو طبّی نوعیت کی ہنگامی صورت حال درپیش ہے۔‘

ہوائی کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ طیارہ اڑنے کے فوراً بعد اتوار کی شب رات آٹھ بج کر 13 منٹ پر پیش آیا تھا جس کے بعد حفاظتی اقدام کے طور پر فلائٹ نمبر VS025 کو واپس بلا لیا گیا تھا۔

واقعے کے وقت جہاز پر 252 مسافر جبکہ عملے کے 15 اراکین سوار تھے۔

لندن کی مقامی پولیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’ہوائی جہاز کو لیزر کی شعاع سے نشانہ بنائے جانے کے بعد مجبوراً اسے ہیتھرو کے ہوائی اڈّے پر واپس اتارنا پڑا ہے۔‘

ورجن اٹلانٹک کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ لیزر سے نشانہ بنانے کے مقام کا تعین کرنے کے لیے حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مسافروں اور عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم جہاز پر موجود افراد کو پیش آنے والی کسی بھی پریشانی کے لیے معافی کے خواستگار ہیں۔

Image caption سب سے زیادہ لیزر کے حملے ہیتھرو ہوائی اڈے پر کیے گئے جن کی تعداد 48 تھی

’تمام مسافروں کے رات کے وقت ٹھہرنے کا انتظام کیا جائے گا اور ہم جلد از جلد انھیں ان کی منزل پر پہنچا دیں گے۔‘

برطانیہ میں سنہ 2010 میں متعارف کرائے جانے والے ایک قانون کے تحت ’ہوائی جہاز پر روشنی یا چمک ڈالنے اور پائلٹ کی نظروں کو چکاچوند‘ کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘

شہری ہوابازی کے ادارے (سی اے اے) کے مطابق برطانیہ میں جنوری سنہ 2015 سے جون 2015 کے درمیان 414 ’لیزر کے واقعات‘ رونما ہوئے تھے۔

اس دوران سب سے زیادہ لیزر کے حملے ہیتھرو ہوائی اڈے پر کیے گئے جن کی تعداد 48 تھی۔

سی اے اے کے مطابق سنہ 2014 میں برطانیہ میں کل 1440 ایسے واقعات پیش آئے تھے جن میں 168 ہیتھرو پہ پیش آئے تھے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکہ میں گذشتہ سال نومبر میں ایک ہی رات میں 20 ایسے واقعات پیش آئے تھے۔

اسی بارے میں