بینکاک دھماکے کے ملزمان کا فوجی عدالت میں جرم سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قیدیوں کے مخصوص لباس پہنے دونوں ملزمان کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں لگا کر عدالت میں لایا گیا تھا

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں ایک مندر پر بم حملے کے دو ملزمان نے فوجی عدالت میں اپنے اوپر عائد الزامات سے انکار کیا ہے۔

اویغور نسل سے تعلق رکھنے والے ملزمان آدم کرادگ عرف بلال محمد اور یوسفو مریلی کو منگل کو بینکاک میں قائم فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

گذشتہ برس اگست میں بینکاک کے مرکزی علاقے میں واقع ایراون مندر پر ہونے والے بم حملے میں 20 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

فوجی عدالت میں پیش کیے گئے دونوں ملزمان کا تعلق چین کے صوبے سنکیانگ سے بتایا گیا ہے اور انھیں اس دھماکے کے کچھ دیر بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان اپنے جرم کا اقرار کر چکے ہیں تاہم سماعت کے دوران ملزمان نے کہا کہ پولیس نے ان سے زبردستی اقبالِ جرم کروایا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوسفو مریلی نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’میں ایک بےقصور مسلمان ہوں۔‘

انھوں نے عدالت سے مقدمے کی تیزی سے سماعت کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ پہلے ہی چھ ماہ سے قید میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ اگست میں بینکاک میں ایراون مندر پر ہونے والے بم حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے

دونوں ملزمان کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں لگا کر عدالت میں لایا گیا تھا۔

ان دونوں پر قتل، اقدامِ قتل اور دھماکہ خیز مواد رکھنے سمیت دس الزمات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

آدم کراداگ کے وکیل نے بھی منگل کو کہا ہے کہ ان کے موکل نے کبھی اقبالِ جرم نہیں کیا۔ سماعت کے بعد کمرۂ عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ملزم نمبر ایک (آدم کرادگ) اپنے بیان سے منحرف نہیں ہوا ہے۔ اس نے کبھی جرم قبول نہیں کیا تھا۔‘

خیال رہے کہ ایراون مندر میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری کسی تنظیم یا فرد نے قبول نہیں کی تھی تاہم تھائی حکام نے اس کا الزام ایک نیٹ ورک پر عائد کیا تھا جس میں غیرملکی بھی شامل تھے۔

دھماکے کے تقریباً ایک ماہ بعد تھائی لینڈ پولیس کے اعلیٰ حکام نے کہا تھا کہ بم دھماکے میں ملوث کلیدی ملزم 27 سالہ عبدالستائر عبدالرحمان عرف ایشان کا تعلق بھی چین کے صوبے سنکیانگ سے ہے اور وہ ملک سے فرار ہو کر ترکی پہنچنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں