کیوبا اور امریکہ کے درمیان کمرشل پروازوں کا معاہدہ طے پا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکہ اور کیوبا کے درمیان 50 سال سے زیادہ عرصے کے بعد پہلی مرتبہ تجارتی پروازوں کے دوبارہ آغاز کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اس وقت دونوں ممالک کے درمیان چند چارٹر پروازوں کا سلسلہ تو ہے لیکن اس نئے معاہدے کے بعد اب یومیہ 110 کے قریب پروازوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

رواں سال خزاں میں ان نئی پروازوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔

کیوبا اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری کا یہ تازہ دور تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکہ کی ٹرانسپورٹیشن کے وزیر اینتھونی فاکس کا کہنا ہے کہ ’کیوبا کے ساتھ تعلقات کے لیے امریکی کوششوں میں کمرشل پروازیں ایک اہم سنگ میل ہے۔‘

جبکہ کیوبا کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ اڈیل روڈریگز نے اسے ایک ’نیا دور‘ قرار دیا ہے۔

تقریباً ایک سال قبل جب سابقہ سرد جنگ کے دشمنوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنا شروع کیے تھے اس کے بعد یہ ایک بہت اہم قدم ہے۔

امریکہ نے سنہ 1960 میں کیوبا پر تجارتی پابندی عائد کی تھی۔ جس کے بعد سنہ 2014 میں امریکی صدر باراک اوباما اور کیوبا کے راؤل کاسترو نے اعلان کیا تھا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا آغاز کریں گے۔

دونوں سربراہان کے درمیان ملاقات اپریل 2015 میں پانامہ میں ہوئی تھی۔

کیوبا نے واشنگٹن میں اپنا سفارتخانہ جولائی 2015 میں دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے ماہ بعد ہی امریکہ نے بھی اپنا سفارتخانہ ہوانا میں کھول دیا تھا۔

سفارتخانے کی تقریب میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شرکت کی تھی جس کے بعد وہ 70 سالوں میں کیوبا کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی وزیر خارجہ بھی بن گئے۔

ہزاروں کی تعداد میں امریکی شہری پہلے ہی کیوبا کے جزیروں میں سیاحت کے لیے موجود ہیں اور وہاں کے ہوٹل اور ہوسٹل کئی کئی مہینوں کے لیے بُک ہورہے ہیں۔

اسی بارے میں