افریقہ:خشک سالی سے دس لاکھ بچے بھوک کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ مشرقی اور جنوبی افریقہ میں خشک سالی کے باعث کم سے کم دس لاکھ بچے شدید بھوک کا شکار ہیں۔

زمبابوے میں خشک سالی کے بعد ایمرجنسی نافذ صومالیہ میں قحط سے لاکھوں کی موت

یونیسیف نے صومالیہ، ایتھوپیا اور انگولا میں صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے عالمی امداد کی اپیل کی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ دو سال سے جاری خشک سالی اور گذشتہ 50 برسوں سے ایل نینیو کے شدید اثرات کے باعث اس خطے کے بچے خوراک اور پانی کی کمی کے باعث ہلاک ہو رہے ہیں۔

اس خشک سالی سے زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے بعد بعض علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ایتھوپیا میں صورت حال بدترین ہے جہاں ایسے افراد کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ کر ایک کروڑ 80 لاکھ ہو گئی ہے جنھیں خوراک کی ضرورت ہے۔

دو ہفتے قبل زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے نے ملک کے خشک سالی سے متاثرہ دیہی علاقوں میں ہنگامی حالات کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق وہاں 24 لاکھ افراد کو غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

زمبابوے میں گذشتہ سال کے مقابلے پر اس سال معمول سے انتہائی کم بارشیں ہوئی ہیں جس کے باعث مویشیوں کی چراگاہیں سوکھ گئی ہیں اور ہزاروں مویشی موت کا شکار ہوگئے ہیں

جنوبی افریقہ، نمیبیا، اور بوٹسوانا بھی شدید خشک سالی کا شکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسی بارے میں